بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 29 از 48
حدیث نمبر: 11545 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: أَوَ إِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَقْضِ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل (مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس نفس کو وجود عطاء فرمانے کا فیصلہ کرلیا ہو وہ وجود میں آکر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11545]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد خالف فيه معمر يونس وعقيل وشعيب بن أبى حمزة و من تابعهم، فذكر عطاء بن يزيد، بدل: ابن محيريز
الحكم: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد خالف فيه معمر يونس وعقيل وشعيب بن أبى حمزة و من تابعهم، فذكر عطاء بن يزيد، بدل: ابن محيريز
حدیث نمبر: 11546 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوَاصِلُوا"، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہو تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11546]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عمرو الندبي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عمرو الندبي
حدیث نمبر: 11547 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ؟" , قَالُوا: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ:" أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ؟" , قَالُوا: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ:" أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ؟" , قَالُوا: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا تُجِيبُونَنِي، أَلَا تَقُولُونَ: أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَأمَنَّاكَ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً، وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً، لَسَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شُعْبَتَكُمْ، لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ جمع ہو کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم پر دوسروں کو ترجیح دینے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم ذلت کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں عزت عطاء فرمائی؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ کیا تم میرے متعلق یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس اس حال میں تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ؟ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا اور تم لوگ میرے بعد بھی ترجیحات دیکھو گے، اس موقع پر صبر کرنا تاآنکہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آملو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11547]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11548 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، قَتَادَةَ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي قَوْلِهِ: وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ سورة الأعراف آية 43، قَالَ: حدثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ".
حدیث نمبر: 11549 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، أَبِي الْخَطَّابِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ، لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے میں نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو لیکن اس سے کچھ اثر قبول نہ کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11549]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
حدیث نمبر: 11550 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11550]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 411، 410، م: 548
الحكم: إسناده صحيح، خ: 411، 410، م: 548
حدیث نمبر: 11551 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ"، قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے پھل خریدے لیکن اس میں اسے نقصان ہوگیا اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے اسے صدقات دے دیئے، لیکن وہ اتنے نہ ہوسکے جن سے اس کے قرضے ادا ہوسکتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو مل رہا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11551]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1556
الحكم: إسناده صحيح، م: 1556
حدیث نمبر: 11552 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ، فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً، قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا، أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے جلدی لے چلو اور اگر نیک نہ ہو تو کہتی ہے کہ ہائے افسوس! مجھے کہاں لے جاتے ہو؟ اس کی یہ آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان بھی اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہو جائے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1314
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1314
حدیث نمبر: 11553 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَصَعِقَ.
حکم دارالسلام
إسناده كسابقه، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11554 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، وحدثَنَاه الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا فَيَمُوتُ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِذَا كَانَ مُسْلِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسعید رحمہ اللہ " جو مہری کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ (میرے بھائی کا انتقال ہوا تو میں) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدینہ منورہ سے ترک وطن کے بارے ان سے مشورہ کیا، اہل و عیال کی کثرت اور سفر کی مشکلات کا ذکر کیا اور یہ کہ اب مدینہ منورہ کی مشقت پر صبر نہیں ہو رہا، انہوں نے فرمایا تمہاری سوچ پر افسوس ہے، میں تو تمہیں یہاں سے جانے کا مشورہ نہیں دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا جب کہ وہ مسلمان بھی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1374
الحكم: إسناده صحيح، م: 1374
حدیث نمبر: 11555 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ، فَأَنْكَرَهَا، فَقَالَ:" أَنَّى لَكَ هَذَا؟" , قَالَ: اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2303، 2302،م: 1594
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2303، 2302،م: 1594
حدیث نمبر: 11556 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، عَاصِمٍ ، شُرَحْبِيلَ ، ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثُوا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ , عَيْنًا بِعَيْنٍ، مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى". قَالَ شُرَحْبِيلُ: إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ، فَأَدْخَلَنِي اللَّهُ النَّارَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شرجیل کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے بعینہ برابر برابر بیچا جائے، جو شخص اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے اس نے سودی معاملہ کیا، شرجیل کہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ حدیث اپنے کانوں سے نہ سنی ہوتی تو اللہ مجھے جہنم میں داخل فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11556]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2177، م: 1584، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل المدني، لكن يعتبر بحديثه
الحكم: حديث صحيح، خ: 2177، م: 1584، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل المدني، لكن يعتبر بحديثه
حدیث نمبر: 11557 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ، فَرَقَاهُ، فَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ عَيْنٍ وَحَاسِدٍ يَشْفِيكَ"، أَوْ قَالَ: اللَّهُ يَشْفِيكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے اور ہر نفس کے شر سے اور نظر بد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے، میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11557]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2186، محمد بن عبدالرحمن الطفاوي فيه كلام، وهو حسن الحديث، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 2186، محمد بن عبدالرحمن الطفاوي فيه كلام، وهو حسن الحديث، وهو متابع
حدیث نمبر: 11558 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَيُدْعَى قَوْمُهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ بَلَّغَكُمْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا , فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ , فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ , فَيُدْعَى مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ بَلَّغَ هَذَا قَوْمَهُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيُقَالُ: وَمَا عِلْمُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جَاءَنَا نَبِيُّنَا، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143، قَالَ: يَقُولُ: عَدْلًا، لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143".
حدیث نمبر: 11559 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، حَبِيبٍ ، أَبِي أَرْطَاةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11559]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، م: 1987، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى أرطاة
الحكم: حديث صحيح لغيره، م: 1987، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى أرطاة
حدیث نمبر: 11560 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، سُمَيٍّ ، النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنِ سُمَيٍّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11560]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2840، م: 1153، وهذا إسناد معلول
الحكم: حديث صحيح، خ: 2840، م: 1153، وهذا إسناد معلول
حدیث نمبر: 11561 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ، لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، الثَّقَلَيْنِ، وَأَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، أَلَا وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرا اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11561]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، دون قوله: وإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح، دون قوله: وإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11562 مسند احمد
يَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ" يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلو کندھوں پر ڈال کر بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 519
الحكم: إسناده صحيح، م: 519
حدیث نمبر: 11563 مسند احمد
يَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ" يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 519
الحكم: إسناده صحيح، م: 519
حدیث نمبر: 11564 مسند احمد
يَعْلَى ، إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11564]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: والواسق ستون مختوما، خ:1405 ،م:979 ،وقال ابن خزيمه: يريد المختوم الصاع، ولا خلاف بين العلماء أن الواسق ستون صاعا، وسيأتي بهذا اللفظ برقم:11785 بإسناد ضعيف
الحكم: صحيح دون قوله: والواسق ستون مختوما، خ:1405 ،م:979 ،وقال ابن خزيمه: يريد المختوم الصاع، ولا خلاف بين العلماء أن الواسق ستون صاعا، وسيأتي بهذا اللفظ برقم:11785 بإسناد ضعيف