بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11547
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11547
حدیث نمبر: 11547 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ؟" , قَالُوا: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ:" أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ؟" , قَالُوا: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ:" أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ؟" , قَالُوا: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا تُجِيبُونَنِي، أَلَا تَقُولُونَ: أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَأمَنَّاكَ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً، وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً، لَسَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شُعْبَتَكُمْ، لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ جمع ہو کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم پر دوسروں کو ترجیح دینے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم ذلت کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں عزت عطاء فرمائی؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ کیا تم میرے متعلق یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس اس حال میں تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ؟ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا اور تم لوگ میرے بعد بھی ترجیحات دیکھو گے، اس موقع پر صبر کرنا تاآنکہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آملو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11547]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (11546) باب پر واپس اگلی حدیث (11548) →