عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوَاصِلُوا"، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہو تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11546]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عمرو الندبي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عمرو الندبي