بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 24 از 48
حدیث نمبر: 11445 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَبَهْزٌ ، مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، ووكيع ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي عِيسَى ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ . ووكيع , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُودُوا الْمَرْضَى، وَاتَّبِعُوا الْجَنَائِزَ، تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11445]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11446 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْمَرِيضَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11446]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11447 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ، أَبَا الْجَوْزَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجَوْزَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي فِي الصَّرْفِ، قَالَ:" فَأَفْتَيْتُ بِهِ زَمَانًا"، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُهُ فَرَجَعَ عَنْهُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: وَلِمَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے معاملے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک فتویٰ سنا اور ایک عرصہ تک لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا، جب دوبارہ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا تھا، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ صرف میری رائے تھی جو میں نے قائم کرلی تھی، بعد میں مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11447]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11448 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11448]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
حدیث نمبر: 11449 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرٌ ، شَرِيكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ ، قَتَادَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ قَتَادَةَ أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَادَّخِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قربانی کا گوشت کھا بھی سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کرسکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1973
الحكم: إسناده صحيح، م: 1973
حدیث نمبر: 11450 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زُهَيْرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد الخدري
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد الخدري ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ، وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2573
الحكم: إسناده صحيح، م: 2573
حدیث نمبر: 11451 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11451]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1310، م: 959
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1310، م: 959
حدیث نمبر: 11452 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ , أخبرنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
حدیث نمبر: 11453 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْأَعْمَشُ ، جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وأبى سعيد الخدري
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وأبى سعيد الخدري , قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی " من " کا ایک جزو ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے اور عجوہ جنت کی کھجور ہے اور وہ زہر سے بھی شفاء دے دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11453]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه وضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه وضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 11454 مسند احمد
شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11454]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 672، شجاع بن الوليد- وإن لم يتحرر لنا أمره أسمع من سعيد بن أبى عروبة قبل الاختلاط أو بعده - متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 672، شجاع بن الوليد- وإن لم يتحرر لنا أمره أسمع من سعيد بن أبى عروبة قبل الاختلاط أو بعده - متابع
حدیث نمبر: 11455 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، ابْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خروجِ جوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج جاری رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11455]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1593
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1593
حدیث نمبر: 11456 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبَانُ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَكُونُ بَعْدِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا، وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11456]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2913، 2914
الحكم: إسناده صحيح، م: 2913، 2914
حدیث نمبر: 11457 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، قَالَ يَزِيدُ: تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ". قَالَ يَزِيدُ: لَا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَا حِنْطَةٍ بِصَاعٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
حدیث نمبر: 11458 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ، قَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل (مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
حدیث نمبر: 11459 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَتْرُكْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے اور حتیٰ الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
الحكم: إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
حدیث نمبر: 11460 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ , قَالَ: تُرِكَ مَا هُنَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان! تم نے خلافِ سنت کام کیا ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11460]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 49
الحكم: إسناده صحيح، م: 49
حدیث نمبر: 11461 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبَا سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ، مِنْ هُذَيْلٍ، فَقَالَ:" لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں ہی کو ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11461]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1896
الحكم: إسناده صحيح، م: 1896
حدیث نمبر: 11462 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَجَعَلْنَا نَعْزِلُ عَنْهُمْ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْفِدَاءَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: تَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11462]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
حدیث نمبر: 11463 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلیٰ میں کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11463]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2700
الحكم: إسناده صحيح، م: 2700
حدیث نمبر: 11464 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11464]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1987
الحكم: إسناده صحيح، م: 1987