وَكِيعٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ، أَبَا الْجَوْزَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجَوْزَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي فِي الصَّرْفِ، قَالَ:" فَأَفْتَيْتُ بِهِ زَمَانًا"، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُهُ فَرَجَعَ عَنْهُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: وَلِمَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے معاملے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک فتویٰ سنا اور ایک عرصہ تک لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا، جب دوبارہ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا تھا، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ صرف میری رائے تھی جو میں نے قائم کرلی تھی، بعد میں مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11447]
الحكم: إسناده صحيح