بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11457
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11457
حدیث نمبر: 11457 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، قَالَ يَزِيدُ: تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ". قَالَ يَزِيدُ: لَا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَا حِنْطَةٍ بِصَاعٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
← پچھلی حدیث (11456) باب پر واپس اگلی حدیث (11458) →