بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 37 از 48
حدیث نمبر: 11705 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَمْ يَعِبْ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1116
الحكم: إسناده صحيح، م: 1116
حدیث نمبر: 11706 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ سورة الأعراف آية 43، قَالَ: حدثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ"، قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ لِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا"، قَالَ قَتَادَةُ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا يُشْبِهُ لَهُمْ، إِلَّا أَهْلُ جُمُعَةٍ حِينَ انْصَرَفُوا مِنْ جُمُعَتِهِمْ.
حدیث نمبر: 11707 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11707]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
حدیث نمبر: 11708 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ آخِرَ رَجُلَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنَ النَّارِ، يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي؟ فَيَقُولُ: لَا أَيْ رَبِّ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ، فَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً، وَيَقُولُ لِلْآخَرِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْجُوكَ , قَالَ: فَيَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى، وَأَغْدَقُ مَاءً، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَقِرَّنِي تَحْتَهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأَوَّلَتَيْنِ، وَأَغْدَقُ مَاءً. فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ , هَذِهِ أَقِرَّنِي تَحْتَهَا، فَيُدْنِيَهُ مِنْهَا، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمْ يَتَمَالَكْ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ الْجَنَّةَ، أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: سَلْ وَتَمَنَّهْ، فَيَسْأَلَهُ وَيَتَمَنَّى مِقْدَارِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى، فَإِذَا فَرَغَ، قَالَ: لَكَ مَا سَأَلْتَ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَمِثْلُهُ مَعَهُ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ. قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ، وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم سے سب سے آخر میں دو آدمی نکلیں گے، ان میں سے ایک سے اللہ فرمائے گا کہ اے بنی آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا نہیں، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے دوبارہ جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور وہ تمام اہل جہنم میں سب سے زیادہ حسرت کا شکار ہوگا، پھر دوسرے سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا جی پروردگار! مجھے امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ایک مرتبہ جہنم سے نکالا تو دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا۔ اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتے رہیں اور میں اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتا رہتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11708]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف على بن زيد بن جدعان، وانظر لزاماً : 11667
الحكم: إسناده ضعيف الضعف على بن زيد بن جدعان، وانظر لزاماً : 11667
حدیث نمبر: 11709 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمْنَا مع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، قَالَ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، چنانچہ جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1247,1248
الحكم: إسناده صحيح، م: 1247,1248
حدیث نمبر: 11710 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَكَى، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے اور ہر حاسد کے شر سے اور نظربد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11710]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2186 ، وهم فيه وهيب بن خالد فقال : أو عن جابر بن عبدالله، والصحيح عن أبى سعيد، وقد سلف بالأرقام : 11225،11534 و 11557 من غير ذكر جابر
الحكم: حديث صحيح، م: 2186 ، وهم فيه وهيب بن خالد فقال : أو عن جابر بن عبدالله، والصحيح عن أبى سعيد، وقد سلف بالأرقام : 11225،11534 و 11557 من غير ذكر جابر
حدیث نمبر: 11711 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" كُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ، فَهُوَ الطَّاعَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن کا ہر وہ حرف جس میں " قنوت '' ذکر کی گئی ہو، وہ طاعت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11711]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11712 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" وَيْلٌ: وَادٍ فِي جَهَنَّمَ، يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ، وَالصَّعُودُ: جَبَلٌ مِنْ نَارٍ، يَتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا، يَهْوِي بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " ویل " جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرنے کے بعد گہرائی تک پہنچنے سے قبل چالیس سال تک لڑھکٹا رہے گا اور " صعود " آگ کے ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر وہ ستر سال تک چڑھے گا، پھر نیچے گرپڑے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11712]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11713 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ"، قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْمِلَّةُ"، قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْمِلَّةُ"، قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" التَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا " باقیات صالحات " کی کثرت کیا کرو، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ملت، کسی نے پوچھا اس سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ملت، تیسری مرتبہ سوال پوچھنے پر فرمایا کہ اس سے مراد تکبیر و تہلیل اور تسبیح وتحمید اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11713]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11714 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، كَمَا لَمْ يَعْمَلْ فِي الدُّنْيَا، وَإِنَّ الْكَافِرَ لَيَرَى جَهَنَّمَ وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کا دن کافر کو پچاس ہزار سال کے برابر محسوس ہوگا، کیونکہ اس نے دنیا میں کوئی عمل نہ کیا تھا اور کافر جب چالیس سال کی مسافت سے جہنم کو دیکھے گا تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ ابھی جہنم میں گرپڑے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11714]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11715 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ، ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَتُهُ، فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ , قَالَ: فَيَرُدُّ السَّلَامَ، وَيَسْأَلُهَا مَنْ أَنْتِ؟ وَتَقُولُ: أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا أَدْنَاهَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوبَى، فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، وَإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک آدمی جنت میں ستر سال تک ٹیک لگائے رکھے گا اور پہلو نہ بدلے گا، اس دوران ایک عورت آئے گی اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دے گی، وہ اس کے چہرے پر نظر ڈالے گا تو وہ آئینہ سے زیادہ صاف ہوگا اور اس عورت کے جسم پر ایک ادنیٰ موتی بھی مشرق اور مغرب کے درمیان ساری جگہ کو روشن کرنے کے لئے کافی ہوگا، وہ آکر اسے سلام کرے گی، وہ شخص اس کا جواب دے کر اس سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ وہ کہے گی کہ میں زائد انعام کے طور پر آپ کی ہوں، اس کے جسم پر ستر کپڑے ہوں گے جن میں سب سے کم تر کپڑا بھی انتہائی ملائم ہوگا اور وہ طوبی درخت سے بنے ہوں گے، اس کے باوجود اس جنتی کی نگاہیں چھن کر اس کے جسم پر پڑیں گی اور اس کی پنڈلی کا گودا تک اس کے پیچھے سے اسے نظر آئے گا اور اس کے سر پر ایسا شاندار تاج ہوگا جس کا ایک ادنیٰ موتی بھی مشرق و مغرب کی درمیانی جگہ کو روشن کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11715]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11716 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا موسم سرما مومن کے لئے موسم بہار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11716]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11717 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ، حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِيَّ الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ قیامت کا دن " جو پچاس ہزار سال کا ہوگا " کتنا لمبا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، مسلمان کے لئے وہ دن اس فرض نماز سے بھی ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11717]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11718 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَجَالِسَ ثَلَاثَةٌ: سَالِمٌ، وَغَانِمٌ، وَشَاجِبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجالس تین طرح کی ہوتی ہیں۔ سالم (گناہوں سے محفوظ) غانم (نیکیوں کا مال غنیمت بننے والی) اور شاجب (بک بک کرنے والی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11718]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11719 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ سورة الواقعة آية 34، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ ارْتِفَاعَهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَمَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " وفرش مرفوعہ " کی تفسیر میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، ان کی بلندی اتنی ہوگی جیسے آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11719]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
حدیث نمبر: 11720 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ، وَيَخْتَضِبَ دَمًا، لَكَانَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب بندوں میں سے افضل ترین آدمی کون ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے لوگ، پھر میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ان کا درجہ مجاہد رضی اللہ عنہ سے بھی بڑھ کر ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ کفار اور مشرکین میں اتنی تلوار چلائے کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں لت پت ہوجائے تب بھی ذکر کرنے والوں کا درجہ ان سے افضل ہی ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11720]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
حدیث نمبر: 11721 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: هَاجَرَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَذِنَا لَكَ؟" , قَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ، فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ فَعَلَا، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک آدمی یمن سے ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے شرک سے تو ہجرت کرلی، البتہ جہاد باقی ہے، کیا یمن میں تمہارے والدین موجود ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ان کی طرف سے تمہیں جہاد میں شرکت کی اجازت ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ ان سے اجازت لو، اگر وہ اجازت دے دیں تو بہت اچھا، ورنہ تم ان ہی کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11721]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
حدیث نمبر: 11722 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: سَيُعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مِنْ أَهْلِ الْكَرَمِ"، فَقِيلَ: وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَهْلُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے عنقریب یہاں جمع ہونے والوں کو معزز لوگوں کا پتہ چل جائے گا، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! معزز لوگوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ فرمایا مسجدوں میں مجلس ذکر کرنے والے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11722]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
حدیث نمبر: 11723 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ، وَاثْنَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً، وَيُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَيَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ، كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ وَصَنْعَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے کم درجہ اس آدمی کا ہوگا جس کے اسی ہزار خادم ہوں گے، بہتر بیویاں ہوں گی اور اس کے لئے موتیوں، یاقوت اور زبرجد کا اتنا بڑا خیمہ لگایا جائے گا جیسے جابیہ اور صنعاء کا درمیانی فاصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11723]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
حدیث نمبر: 11724 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً، رَفَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي عِلِّيِّينَ، وَمَنْ تَكَبَّرَ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً، وَضَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے، حتیٰ کہ اس طرح اسے " علیین " میں پہنچا دیتا ہے اور جو شخص ایک درجہ اللہ کے سامنے تکبر کرتا ہے اللہ اسے ایک درجے نیچے گرا دیتا ہے، حتیٰ کہ اسے اسفل السافلین میں پہنچا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11724]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717