(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: هَاجَرَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَذِنَا لَكَ؟" , قَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ، فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ فَعَلَا، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک آدمی یمن سے ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے شرک سے تو ہجرت کرلی، البتہ جہاد باقی ہے، کیا یمن میں تمہارے والدین موجود ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ان کی طرف سے تمہیں جہاد میں شرکت کی اجازت ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ ان سے اجازت لو، اگر وہ اجازت دے دیں تو بہت اچھا، ورنہ تم ان ہی کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11721]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717