بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 42 از 48
حدیث نمبر: 11805 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ ، بِشْرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا: حدثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْكُرَّاثِ، وَالْبَصَلِ، وَالثُّومِ"، فَقُلْنَا: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لہسن اور پیاز سے منع فرمایا ہے، ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ چیزیں حرام ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11805]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح برقم: 11084
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح برقم: 11084
حدیث نمبر: 11806 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ , يَقُولُ:" وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَجَعَلَ يَدْعُو هَكَذَا، وَجَعَلَ ظَهْرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ، وَرَفَعَهُمَا فَوْقَ ثَنْدُوَتِهِ، وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْكِبَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے اور کندھوں سے نیچے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11806]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
حدیث نمبر: 11807 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، عِكْرِمَةَ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ , يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَزَوَّدُ مِنْ وَشِيقِ الْحَجِّ، حَتَّى يَكَادَ يَحُولُ عَلَيْهِ الْحَوْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کے بچے ہوئے سامان زاد کے طور پر استعمال کرتے تھے اور قریب قریب پورا سال اس پر گذر جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11807]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 11808 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، سُلَيْمَانُ النَّاجِيُّ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ النَّاجِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَبَسَكَ يَا فُلَانُ عَنِ الصَّلَاةِ؟" , قَالَ: فَذَكَرَ شَيْئًا اعْتَلَّ بِهِ , قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟" , قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَصَلَّى مَعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ظہر پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں نماز سے کس چیز نے روکا؟ اس نے کوئی وجہ بیان کی اور نماز کا ارادہ کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کون اس پر صدقہ کر کے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11808]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله : ما حسبك يا فلان! عن الصلاة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن عاصم الواسطي
الحكم: حديث صحيح دون قوله : ما حسبك يا فلان! عن الصلاة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن عاصم الواسطي
حدیث نمبر: 11809 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُ: لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُقَوِّمُ أَوْ الْمُسَعِّرُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي مَالٍ، وَلَا نَفْسٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہو کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11809]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن عاصم الواسطي والجريري قد اختلط، وسماع الواسطي منه بعد اختلاط
الحكم: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن عاصم الواسطي والجريري قد اختلط، وسماع الواسطي منه بعد اختلاط
حدیث نمبر: 11810 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 1310، م : 959 ، على بن عاصم الواسطي - وإن يكن ضعيفا - متابع
الحكم: إسناده صحيح، خ : 1310، م : 959 ، على بن عاصم الواسطي - وإن يكن ضعيفا - متابع
حدیث نمبر: 11811 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ"، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا عِيَالًا، قَالَ:" كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَأَحْسِنُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، لوگوں نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے بال بچے بھی تو ہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم کھا بھی سکتے ہو، ذخیرہ بھی کرسکتے ہو اور عمدگی کے ساتھ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11811]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالوهاب بن عطاء الخفاف سمع من الجريري قبل الاختلاط، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، عبدالوهاب بن عطاء الخفاف سمع من الجريري قبل الاختلاط، وهو متابع
حدیث نمبر: 11812 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطٍ، فَنَادِ صَاحِبَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَكُلْ مِنْ غَيْرِ أَنْ لاَ تُفْسِدَ، وَإِنْ أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ، فَنَادِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَكُلْ وَاشْرَبْ مِنْ غَيْرِ أَنْ لا تُفْسِدَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا بَعْدُ فَصَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی باغ میں جاؤ اور کھانا کھانے لگو تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کر بلاؤ، آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلے ہی کھالو لیکن حد سے آگے نہ بڑھو، اسی طرح جب تم کسی چرواہے کے پاس سے گذرو تو اسے تین مرتبہ آواز دے لو، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے جبکہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11812]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف دون قوله: الضيافة ثلاثة أيام فما بعده فصدقة، فهو صحيح. على بن عاصم الواسطي ضعيف، وسماعه من الجريري بعد الاختلاط
الحكم: حديث ضعيف دون قوله: الضيافة ثلاثة أيام فما بعده فصدقة، فهو صحيح. على بن عاصم الواسطي ضعيف، وسماعه من الجريري بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 11813 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، وهما رجلان من الأنصار من بني مازن بن النجار وكانا ثقة، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، وَهُمَا مِنْ رَهْطِهِمَا وَكَانَا ثِقَةً، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم کھجور میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11813]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1405، م: 979، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1405، م: 979، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11814 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ"، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الدِّينُ"، قَالَ يَعْقُوبُ: مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَالِحٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں، لیکن کسی کی قمیص چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیص پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دین۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11814]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7008، م: 2390
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7008، م: 2390
حدیث نمبر: 11815 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ بِئْرِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا مَحَايِضُ النِّسَاءِ، وَلَحْمُ الْكِلَابِ، وَعَذِرُ النَّاسِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ، لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11815]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع، ولجهالة سليط بن أيوب
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع، ولجهالة سليط بن أيوب
حدیث نمبر: 11816 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَوْ أَخِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَرَأَيْتُ أَنَّ فِي ذِرَاعِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَرِهْتُهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا هَذَيْنِ الْكَذَّابَيْنِ: صَاحِبَ الْيَمَنِ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن ولا (اسود عنسی ' اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11816]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11817 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ ، وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَشْكُوا عَلِيًّا، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأُخَيْشِنٌ فِي ذَاتِ اللَّهِ"، أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو! علی سے شکوہ نہ کیا کرو، واللہ! وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کی راہ میں بڑا سخت آدمی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11817]
حدیث نمبر: 11818 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْمَحِيضُ، وَلُحُومُ الْكِلَابِ، وَالنَّتْنُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ، لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے، مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگون نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو! علی سے شکوہ نہ کیا کرو، بخدا! وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کی راہ میں بڑا سخت آدمی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11818]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعف الجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع ابن خديج
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعف الجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع ابن خديج
حدیث نمبر: 11819 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، يَحْيَى بْنَ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ ، وَعَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ ، وَعَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثَانِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم کھجور میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1405، م: 979، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1405، م: 979، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11820 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةَ ، جَابِرٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ اشْتَرَى كَبْشًا لِيُضَحِّيَ بِهِ، فَأَكَلَ الذِّئْبُ مِنْ ذَنَبِهِ أَوْ ذَنَبَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11820]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، وجهالة محمد بن قرظة الأنصاري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، وجهالة محمد بن قرظة الأنصاري
حدیث نمبر: 11821 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، مُجَالدِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتَضْرِبَنَّ مُضَرُ عِبَادَ اللَّهِ حَتَّى لَا يُعْبَدَ لِلَّهِ اسْمٌ، وَلَيَضْرِبَنَّهُمْ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبیلہ مضر کے لوگ اللہ کے بندوں کو مارتے رہیں گے تاکہ اللہ کی عبادت کرنے والا کوئی نام نہ رہے، یا مسلمان انہیں مارتے رہیں گے تاکہ وہ ان سے کسی برتن کا پیندا بھی نہ روک سکیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11821]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 11822 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ الْوِصَالِ، فَلْيُوَاصِلْ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي، وَسَاقٍ يَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہے تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1963
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1963
حدیث نمبر: 11823 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ ، وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ:" لَا تُوطَأُ الْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہوجائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کے ایک دو روز گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11823]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 11824 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيُّ ، الْحَسَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا رَهْبَةُ النَّاسِ، إِنْ عَلِمَ حَقًّا أَنْ يَقُومَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ اسے اس کا یقین ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11824]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد