بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11818
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11818
حدیث نمبر: 11818 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْمَحِيضُ، وَلُحُومُ الْكِلَابِ، وَالنَّتْنُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ، لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے، مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگون نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو! علی سے شکوہ نہ کیا کرو، بخدا! وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کی راہ میں بڑا سخت آدمی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11818]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعف الجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع ابن خديج
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعف الجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع ابن خديج
← پچھلی حدیث (11817) باب پر واپس اگلی حدیث (11819) →