بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 43 از 48
حدیث نمبر: 11825 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمَّنْ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" آذَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ، فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا، حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا الْكَدِيدَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ مِنْهُمْ الصَّائِمُ، وَمِنْهُمْ الْمُفْطِرُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَدْنَى مَنْزِلٍ تِلْقَاءَ الْعَدُوِّ أَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کی دو تاریخ کو ہمیں کوچ کے حوالے سے مطلع کیا، ہم روزہ رکھ کر روانہ ہوگئے، مقامِ کدید میں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا، جب صبح ہوئی تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں رکھا اور جب دشمن کے سامنے پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا تو ہم سب نے روزہ ختم کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11825]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1116، والراوي المبهم فى هذا الإسناد هو قزعة بن يحيى، كما فى الرواية الآتية
الحكم: حديث صحيح، م: 1116، والراوي المبهم فى هذا الإسناد هو قزعة بن يحيى، كما فى الرواية الآتية
حدیث نمبر: 11826 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ، فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّى بَلَغْنَا الْكَدِيدَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ شَرْجَيْنِ، مِنْهُمْ الصَّائِمُ، وَالْمُفْطِرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کی دو تاریخ کو ہمیں کوچ کے حوالے سے مطلع کیا، ہم روزہ رکھ کر روانہ ہوگئے، مقامِ کدید میں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا، جب صبح ہوئی تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں رکھا اور جب دشمن کے سامنے پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا تو ہم سب نے روزہ ختم کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1116، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، م: 1116، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 11827 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمَّنْ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے تو اس کے بعد یہ فرماتے کہ اے ہمارے پروردگار! اے اللہ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں، زمین و آسمان اور اس کے علاوہ جنہیں آپ چاہیں، ان کے پر کرنے کی بقدر، آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہیں، بندے جو کہتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور ہم سب آپ کے بندے ہیں، جسے آپ کچھ دے دیں اس سے وہ چیز کوئی روک نہیں سکتا اور کسی مرتبہ والے کی بزرگی آپ کے سامنے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 477، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، م: 477، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11828 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے تو اس کے بعد یہ فرماتے کہ اے ہمارے پروردگار! اے اللہ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں، زمین و آسمان اور اس کے علاوہ جنہیں آپ چاہیں، ان کے پر کرنے کی بقدر، آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہیں، بندے جو کہتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور ہم سب آپ کے بندے ہیں، جسے آپ کچھ دے دیں اس سے وہ چیز کوئی روک نہیں سکتا اور کسی مرتبہ والے کی بزرگی آپ کے سامنے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11829 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ لَتُرَى غُرَفُهُمْ فِي الْجَنَّةِ كَالْكَوْكَبِ الطَّالِعِ الشَّرْقِيِّ، أَوْ الْغَرْبِيِّ، فَيُقَالُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَيُقَالُ: هَؤُلَاءِ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی رضاء کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے بالاخانے جنت میں اس طرح نظر آئیں گے جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ، پوچھا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اللہ کی رضاء کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11829]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو حازم سلمة بن دينار لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو حازم سلمة بن دينار لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11830 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُلْقِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، وَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ خَمْسًا شَفَعَ بِهِمَا، وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 571
الحكم: إسناده صحيح، م: 571
حدیث نمبر: 11831 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ، أَنْ يَقُولَ الْحَقَّ إِذَا رَآهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اسے خود دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الجريري قد توبع
الحكم: حديث صحيح، الجريري قد توبع
حدیث نمبر: 11832 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَوَلَيْسَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2252
الحكم: إسناده صحيح، م: 2252
حدیث نمبر: 11833 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، ابْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2320
الحكم: إسناده صحيح، م: 2320
حدیث نمبر: 11834 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس شخص کو بھی خلافت عطاء فرمائی، اس کے قریب دو گروہ رہے ہیں، ایک گروہ اسے خیر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور دوسرا گروہ اسے شر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچالے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6611
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6611
حدیث نمبر: 11835 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَبَّنَا، فَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے اہل جنت! وہ کہیں گے " لبیک وسعدیک " اللہ فرمائے گا کیا تم خوش ہو؟ وہ کہیں گے کہ پروردگار! ہم کیوں خوش نہ ہوں گے جب کہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطاء فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطاء نہیں فرمایا ہوگا اللہ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دوں گا، وہ کہیں گے کہ پروردگار! اس سے زیادہ افضل چیز اور کیا ہوگی؟ اللہ فرمائے گا کہ آج میں تم پر اپنی خوشنودی نازل کرتا ہوں اور آج کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6549، م: 2829
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6549، م: 2829
حدیث نمبر: 11836 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ ، أَبِي السَّمْحِ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ سورة المؤمنون آية 104، قَالَ: تَشْوِيهِ النَّارُ، فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا، حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ، وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى، حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ".
حدیث نمبر: 11837 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، أَبِي ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ , أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً، فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتے ہوئے تھوکنا چاہے تو سامنے یا دائیں جانب نہ دیکھے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 410،411، م: 548
الحكم: إسناده صحيح، خ: 410،411، م: 548
حدیث نمبر: 11838 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ"، فَقَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مومن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11838]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2786، 6494، م: 1888
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2786، 6494، م: 1888
حدیث نمبر: 11839 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخبرنا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا، فَنُحِبُّ الْإِثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكُمْ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ، إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمیں قیدی ملے، ہم چاہتے ہیں کہ انہیں فدیہ دے کر چھوڑ دیں تو عزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسے کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اللہ نے جس روح کو وجود عطا کرنے کا فیصلہ فرمالیا ہے وہ آکر رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11839]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2229، م: 1938
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2229، م: 1938
حدیث نمبر: 11840 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَوْزاعِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، عَطَاءٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَوْزاعِيِّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعَيْبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
(١١٨٤٠) حدیث نمبر ١١٨٦٠ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6494، م: 1888
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6494، م: 1888
حدیث نمبر: 11841 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، شَهْرٌ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَا أَعْرَابِيٌّ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ فِي غَنَمٍ لَهُ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ، فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، فَأَدْرَكَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ وَهَجْهَجَهُ، فَعَانَدَهُ الذِّئْبُ يَمْشِي، ثُمَّ أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ يُخَاطِبُهُ، فَقَالَ: أَخَذْتَ رِزْقًا رَزَقَنِيهِ اللَّهُ , قَالَ: وَاعَجَبًا مِنْ ذِئْبٍ مُقْعٍ مُسْتَذْفِرٍ بِذَنَبِهِ يُخَاطِبُنِي , فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَتْرُكُ أَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَمَا أَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّخْلَتَيْنِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ نَبَإِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَعَقَ الْأَعْرَابِيُّ بِغَنَمِهِ، حَتَّى أَلْجَأَهَا إِلَى بَعْضِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى ضَرَبَ عَلَيْهِ بَابَهُ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيْنَ الْأَعْرَابِيُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ، فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَدِّثْ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَيْتَ"، فَحَدَّثَ الْأَعْرَابِيُّ النَّاسَ بِمَا رَأَى مِنَ الذِّئْبِ وَسَمِعَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" صَدَقَ، آيَاتٌ تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ أَحَدُكُمْ مِنْ أَهْلِهِ، فَيُخْبِرَهُ نَعْلُهُ , أَوْ سَوْطُهُ , أَوْ عَصَاهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کرلے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ تم نے مجھ سے میرا رزق " جو اللہ نے مجھے دیا تھا " چھین لیا؟ وہ چرواہا کہنے لگا تعجب ہے کہ ایک بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ کر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کر رہا ہے؟ وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یثرب میں لوگوں کو ماضی کی خبریں بتا رہے ہیں، جب وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا مدینہ منورہ واپس پہنچا تو اپنی بکریوں کو ایک کونے میں چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ گوش گذار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کردی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور چرواہے سے فرمایا کہ لوگوں کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، اس نے لوگوں کے سامنے سارا واقعہ بیان کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے باتیں نہ کرنے لگیں اور انسان سے اس کے کوڑے کا دستہ اور جوتے کا تسمہ باتیں نہ کرنے لگے اور ان کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11841]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 11842 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ لَوْ قَدْ اسْتَقَامَتْ الْأُمُورُ قَدْ آثَرَ عَلَيْكُمْ , قَالَ: فَرَدُّوا عَلَيْهِ رَدًّا عَنِيفًا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَهُمْ , فَقَالَ لَهُمْ أَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَكُنْتُمْ لَا تَرْكَبُونَ الْخَيْلَ؟" , قَالَ: فَكُلَّمَا قَالَ لَهُمْ شَيْئًا قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ:" أَفَلَا تَقُولُونَ: قَاتَلَكَ قَوْمُكَ فَنَصَرْنَاكَ، وَأَخْرَجَكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ؟" , قَالُوا: نَحْنُ لَا نَقُولُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ تَقُولُهُ، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ؟" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا تَرْضَوْنَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ لَوْ سَلَكُوا وَادِيًا، وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ؟" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي، وَأَهْلُ بَيْتِي، وَعَيْبَتِي الَّتِي آوِي إِلَيْهَا، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ: أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّنَا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً؟ قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا أَمَرَكُمْ؟ قُلْتُ: أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ، قَالَ: فَاصْبِرُوا إِذًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں تم سے اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ معاملات اسی طرح سیدھے سیدھے چلتے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے، انہوں نے اسے اس کا سخت جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے کچھ باتیں کیں جو مجھے اب یاد نہیں ہیں، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی ان سے کچھ فرماتے وہ اس کا یہی جواب دیتے " کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! " جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کسی بات کا جواب نہیں دے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کی قوم آپ سے لڑی اور ہم نے آپ کی مدد کی اور آپ کی قوم نے آپ کو نکالا اور ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ بات جو آپ فرما رہے ہیں یہ ہم نے نہیں کہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے کو اختیار کرلوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، انصار میرا پردہ، میرے اہل خانہ اور میرا ٹھکانہ ہیں، تم ان کے گناہگار سے درگذر کرو اور ان کے نیکوکاروں کو قبول کرو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو ہمیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ترجیحات دیکھیں گے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں صبر کا حکم دیا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ صبر کا دامن تھامے رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11842]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف عطية العوفي، وقد سلف بإسناد صحيح برقم: 11047 وبإسناد حسن برقم: 11730
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف عطية العوفي، وقد سلف بإسناد صحيح برقم: 11047 وبإسناد حسن برقم: 11730
حدیث نمبر: 11843 مسند احمد
رَوْحٌ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ:" فَمَنْ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو اور کون؟ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کرلے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3456، م: 2669
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3456، م: 2669
حدیث نمبر: 11844 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، يَهُشُّ عَلَيْهَا فِي بَيْداءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ، إِذْ عَدَا عَلَيْهِ ذِئْبٌ، فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ، فَرَمَاهُ بِالْحِجَارَةِ، حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتَّى أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ مُقَابِلَ الرَّجُلِ، فَذَكَرَهُ نَحْوَ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب