بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 32 از 48
حدیث نمبر: 11605 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي لَيَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ مِنَ النَّاسِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلرَّجُلِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ایک آدمی لوگوں کی جماعتوں میں سفارش کرے گا اور وہ اس کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، کوئی پورے قبیلے کی سفارش کرے گا کوئی دس آدمیوں کی، کوئی تین آدمی کی، کوئی دو آدمیوں کی اور کوئی ایک آدمی کی سفارش کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11605]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11606 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، فُلَيْحٌ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَ: حدثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ بِي ابْنُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ أَصْبَحْتَ غَادِيًا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، وَادِّخَارِهِ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ وَالْأَنْبِذَةِ، فَاشْرَبُوا، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کرسکتے ہو۔ کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کردی ہے نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبی ذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بےہودہ بات نہ کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11606]
حکم دارالسلام
حديث صحيح غير قوله: فقد جاء الله بالسعة ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عمرو بن ثابت العتواري الليثي وابيه عمرو
الحكم: حديث صحيح غير قوله: فقد جاء الله بالسعة ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عمرو بن ثابت العتواري الليثي وابيه عمرو
حدیث نمبر: 11607 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَبَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ ، حُمَيْدٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَبَهْزٌ , قَالَا: حدثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ بَهْزٌ: السَّمَّانُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ قَالَ بَهْزٌ: إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے گذرنے نہ دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
الحكم: إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
حدیث نمبر: 11608 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3673، م: 2540
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3673، م: 2540
حدیث نمبر: 11609 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ صَلَاةٌ فِي الطُّورِ، فقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْبَغِي لِلْمَطِيِّ أَنْ تُشَدَّ رِحَالُهُ إِلَى مَسْجِدٍ يُبْتَغَى فِيهِ الصَّلَاةُ، غَيْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَمَسْجِدِي هَذَا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَلَا يَنْبَغِي لِامْرَأَةٍ دَخَلَتْ الْإِسْلَامَ، أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا مُسَافِرَةً إِلَّا مَعَ بَعْلٍ، أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا. وَلَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ فِي سَاعَتَيْنِ مِنَ النَّهَارِ: مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ تَدْخُلَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَلَا يَنْبَغِي الصَّوْمُ فِي يَوْمَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ: يَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَيَوْمِ النَّحْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11609]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 11610 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يعنى ابْنُ زِيَادٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عبد الله بن عمر ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يعنى ابْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عن عبد الله بن عمر قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَيْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ". قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ. حَدَّثَنَا عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ: إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری قبر گھر اور منبر کا درمیانی حصہ جنت کا ایک باغ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11610]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو بكر بن عبدالرحمن بن عبدالله بن عمر، هو أبو بكر بن عمر بن عبدالرحمن بن عبدالله بن عمر، روايته عن جد أبيه منقطعة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو بكر بن عبدالرحمن بن عبدالله بن عمر، هو أبو بكر بن عمر بن عبدالرحمن بن عبدالله بن عمر، روايته عن جد أبيه منقطعة
حدیث نمبر: 11611 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ، يَخْرُجُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ، يَلِي قَتْلَهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
حدیث نمبر: 11612 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11612]
حکم دارالسلام
هو مكرر سابقه
الحكم: هو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 11613 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا، فَيُصَلِّيَ مَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اس وقت آیا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی آدمی جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11614 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ" قِيلَ: مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ:" سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ وَالتَّسْبِيتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مشرق کی جانب سے ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر سے شکار نکل جاتا ہے اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، کسی نے ان کی نشانی پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کی نشانی ٹنڈ کرانا اور لیس دار چیزوں سے بالوں کو جمانا ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11614]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7562، م:1064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7562، م:1064
حدیث نمبر: 11615 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11615]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11616 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11616]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1738
الحكم: إسناده صحيح، م: 1738
حدیث نمبر: 11617 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ، وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خروجِ یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1593
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1593
حدیث نمبر: 11618 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ , وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ، إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11618]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 11619 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حدثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِبِلًا، وَإِنِّي أُرِيدُ الْهِجْرَةَ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" وَتُؤَدِّي زَكَاتَهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" وَتَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , فَقَالَ:" انْطَلِقْ وَاعْمَلْ وَرَاءَ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا، وَإِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11619]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1452، م: 1865، محمد بن مصعب القرساني مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، خ: 1452، م: 1865، محمد بن مصعب القرساني مختلف فيه
حدیث نمبر: 11620 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عُمَارَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ، حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَيَقُولَ: مَنْ صَعِقَ تِلْكُمْ الْغَدَاةَ؟ فَيَقُولُونَ: صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب لوگوں پر بےہوشی کے دورے بڑی بکثرت سے پڑنے لگیں گے، حتیٰ کہ ایک آدمی لوگوں سے آکر پوچھے گا کہ صبح تم سے پہلے کون بےہوش ہوا تھا اور وہ جواب دیں گے کہ فلاں اور فلاں شخص۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11620]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب القرقساني مختلف فيه، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب القرقساني مختلف فيه، وقد توبع
حدیث نمبر: 11621 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَقْسِمُ مَالًا، إِذْ أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اعْدِلْ، فَوَاللَّهِ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ؟ فَقَالَ:" لَا، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ صَاحِبُهُ إِلَى فُوقِهِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ كَالْبَضْعَةِ، أَوْ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ، يَخْرُجُونَ عَلَى فِرْقَتَيْنِ مِنَ النَّاسِ، يَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِاللَّهِ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي شَهِدْتُ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى، فَوَجَدَ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدنصیب! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کو خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی " ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا گیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11621]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6163، م: 1064، محمد بن مصعب القرقساني فيه كلام من جهة حفظه
الحكم: حديث صحيح، خ: 6163، م: 1064، محمد بن مصعب القرقساني فيه كلام من جهة حفظه
حدیث نمبر: 11622 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور کان لگا کر لوگوں کی باتیں سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11622]
حکم دارالسلام
إسناده مسلسل بالضعفاء
الحكم: إسناده مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 11623 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَكَ وَخَيْبَرَ، قَالَ: فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ فَدَكَ وَخَيْبَرَ، فَوَقَعَ النَّاسُ فِي بَقْلَةٍ لَهُمْ، هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ، قَالَ: فَرَاحُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ رِيحَهَا، فَتَأَذَّى بِهِ، ثُمَّ عَادَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" أَلَا لَا تَأْكُلُوهُ، فَمَنْ أَكَلَ مِنْهَا شَيْئًا، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَجْلِسَنَا". قَالَ: وَوَقَعَ النَّاسُ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، وَنَصَبْتُ قِدْرِي فِيمَنْ نَصَبَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنْهَاكُمْ عَنْهُ، أَنْهَاكُمْ عَنْهُ"، مَرَّتَيْنِ، فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ، فَكَفَأْتُ قِدْرِي فِيمَنْ كَفَأَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فدک اور خیبر کے غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، اللہ نے اپنے پیغمبر کو دونوں موقعوں پر فتح عطاء فرمائی، تو لوگوں نے یہ لہسن اور پیاز خوب کثرت کے ساتھ کھایا، جب نماز کے وقت وہ مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی بو سے اذیت محسوس ہوئی، لوگوں نے جب دوبارہ اسے کھایا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے مت کھایا کرو، جو شخص اس میں سے کچھ کھائے تو وہ ہماری مجلس کے قریب نہ آئے۔ اسی طرح غزوہ خیبر کے موقع پر لوگوں نے پالتو گدھوں کا گوشت بھی حاصل کیا اور ہنڈیاں چڑھا دیں، ان میں میری ہانڈی بھی شامل تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا کہ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں، اس پر ساری ہانڈیاں الٹا دی گئیں، ان میں میری ہنڈیا بھی شامل تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11623]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح برقم: 11084، ونهيه صلى الله عليه و آله وسلم عن لحوم الحمر الأهلية سياتي بالأرقام : 11778 و 11936، وسلف برقم : 4720، باسناد صحيح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح برقم: 11084، ونهيه صلى الله عليه وسلم عن لحوم الحمر الأهلية سياتي بالأرقام : 11778 و 11936، وسلف برقم : 4720، باسناد صحيح
حدیث نمبر: 11624 مسند احمد
أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: ثُمَّ هَاجَتْ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، بَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ، فَقَالَ:" مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ؟" , قَالَ: عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا , قَالَ:" فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ"، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ، وَقَالَ:" خُذْ هَذَا، فَسَيُضِيءُ أَمَامَكَ عَشْرًا، وَخَلْفَكَ عَشْرًا، فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ، وَتَرَاءَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ، فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ" , قَالَ: فَفَعَلَ، فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ , قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ، فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُهَا، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ" , قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر حال بیان فرمایا۔ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ بخدا! اگر میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان سے اس گھڑی کے متعلق ضرور پوچھوں گا، ہوسکتا ہے انہیں اس کا علم ہو، چنانچہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ چھڑیاں سیدھی کر رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا اے ابوسعید! یہ کیسی چھڑیاں ہیں جو میں آپ کو سیدھی کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ چھڑیاں ہیں جن میں اللہ نے ہمارے لئے برکت رکھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں پسند فرماتے تھے اور انہیں چھپایا کرتے تھے۔ ہم انہیں سیدھا کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں ان میں سے ہی ایک چھڑی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس چھڑی سے اسے صاف کردیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے مت تھوکے کیونکہ سامنے اس کا رب ہوتا ہے، بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔ پھر اسی رات خوب زوردار بارش ہوئی، جب نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک دم بجلی چمکی، اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ پر پڑی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا قتادہ! رات کے اس وقت میں (اس بارش میں) آنے کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے معلوم تھا کہ آج نماز کے لئے بہت تھوڑے لوگ آئیں گے تو میں نے سوچا کہ میں نماز میں شریک ہوجاؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم پڑھ چکو تو رک جانا، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس سے گذرنے لگوں۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو ایک چھڑی دی اور فرمایا یہ لے لو، یہ تمہارے دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے روشنی دے گی، پھر جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور وہاں کسی کونے میں کسی انسان کا سایہ نظر آئے تو اس کے بولنے سے پہلے اسے اس چھڑی سے مار دینا کہ وہ شیطان ہوگا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس وجہ سے ہم ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اے ابوسعید! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ساعت جمعہ کے حوالے سے ایک حدیث سنائی تھی، کیا آپ کو اس ساعت کا علم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس ساعت کے متعلق دریافت کیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پہلے تو وہ گھڑی بتائی گئی تھی لیکن پھر شب قدر کی طرح بھلا دی گئی، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں وہاں سے نکل کر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11624]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وبعضه حسن، وهذا إسناد فيه فليح - وهو ابن سليمان - تكلم فيه الأئمة من قبل حفظه، وانظر : 11025
الحكم: بعضه صحيح، وبعضه حسن، وهذا إسناد فيه فليح - وهو ابن سليمان - تكلم فيه الأئمة من قبل حفظه، وانظر : 11025