مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عُمَارَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ، حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَيَقُولَ: مَنْ صَعِقَ تِلْكُمْ الْغَدَاةَ؟ فَيَقُولُونَ: صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب لوگوں پر بےہوشی کے دورے بڑی بکثرت سے پڑنے لگیں گے، حتیٰ کہ ایک آدمی لوگوں سے آکر پوچھے گا کہ صبح تم سے پہلے کون بےہوش ہوا تھا اور وہ جواب دیں گے کہ فلاں اور فلاں شخص۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11620]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب القرقساني مختلف فيه، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب القرقساني مختلف فيه، وقد توبع