بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11621
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11621
حدیث نمبر: 11621 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَقْسِمُ مَالًا، إِذْ أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اعْدِلْ، فَوَاللَّهِ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ؟ فَقَالَ:" لَا، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ صَاحِبُهُ إِلَى فُوقِهِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ كَالْبَضْعَةِ، أَوْ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ، يَخْرُجُونَ عَلَى فِرْقَتَيْنِ مِنَ النَّاسِ، يَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِاللَّهِ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي شَهِدْتُ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى، فَوَجَدَ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدنصیب! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کو خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی " ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا گیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11621]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6163، م: 1064، محمد بن مصعب القرقساني فيه كلام من جهة حفظه
الحكم: حديث صحيح، خ: 6163، م: 1064، محمد بن مصعب القرقساني فيه كلام من جهة حفظه
← پچھلی حدیث (11620) باب پر واپس اگلی حدیث (11622) →