بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 22 از 48
حدیث نمبر: 11405 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ، وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ، وَلَا خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
حدیث نمبر: 11406 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، صَفْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ عَامًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کردے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11406]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2840، م: 1153، وهذا الإسناد معل
الحكم: حديث صحيح، خ: 2840، م: 1153، وهذا الإسناد معل
حدیث نمبر: 11407 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 77
الحكم: إسناده صحيح، م: 77
حدیث نمبر: 11408 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟" , فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى مَعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کون اس پر صدقہ کرکے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11408]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بعد الاختلاط - متابع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بعد الاختلاط - متابع
حدیث نمبر: 11409 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ إِبْرَاهِيمَ، وَمَسْجِدِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" صَلَاةٍ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ: الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ" , قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ: قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11409]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعذالاختلاط، لكن تابعه عبدالوهاب الخفاف وهو ممن سمع من سعيد قبل الاختلاط
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعذالاختلاط، لكن تابعه عبدالوهاب الخفاف وهو ممن سمع من سعيد قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 11410 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، قَزَعَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تُشْرِقَ الشَّمْسُ وَلَمْ يَشُكَّ ثَلَاثَ لَيَالٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11410]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11411 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي عِيسَى ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِي عِيسَى الْحَارِثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11411]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2025
الحكم: إسناده صحيح، م: 2025
حدیث نمبر: 11412 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ، وَكَانَ تَمْرُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا بَعْلًا فِيهِ يَبْسٌ، فَقَالَ:" أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ؟" , فَقَالُوا: وهَذَا تَمْرٌ ابْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ، ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11412]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2303، 2302، م: 1593 ، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بعد الاختلاط - متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2303، 2302، م: 1593 ، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بعد الاختلاط - متابع
حدیث نمبر: 11413 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً بَقِيَتْ مِنْ رَمَضَانَ مَخْرَجَهُ إِلَى حُنَيْنٍ، فَصَامَ طَوَائِفُ مِنَ النَّاسِ، وَأَفْطَرَ آخَرُونَ، فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی احسان نہیں جتاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی، وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11413]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1116، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بعد الاختلاط - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1116، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بعد الاختلاط - قد توبع
حدیث نمبر: 11414 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْجَنِينِ:" ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پیٹ کے بچے کے ذبح ہونے کے لئے اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11414]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى، و عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى، و عطية العوفي
حدیث نمبر: 11415 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَمَا تَيَسَّرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11416 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَكُونُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ، يَخْرُجُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1064
الحكم: إسناده صحيح، م: 1064
حدیث نمبر: 11417 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ، أَوْ ذِي مَحْرَمٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ , وَيَوْمِ النَّحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ اور کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
حدیث نمبر: 11418 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ , قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ، وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي ," وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن دواک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا ہے کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے اور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11418]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1987
الحكم: إسناده صحيح، م: 1987
حدیث نمبر: 11419 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ ، أَبِا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحِلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا، فَإِنَّهُ خَاتَمُهُمْ عَلَيْهَا، فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ، فَرَأَيْتُمْ الْوَطْبَ , أَوْ الرَّاوِيَةَ , أَوْ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ، فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ سَقَاكُمْ فَاشْرَبُوا، وَإِلَّا فَلَا، وَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمِلِينَ" , قَالَ أَبُو النَّضْرِ:" وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ، فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ، ثُمَّ اشْرَبُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی اونٹنی کے تھنوں پر بندھا ہوا دھاگا اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کھولے، کیونکہ وہ ان کی مہر ہے، جب تم کسی جنگل میں ہو اور وہاں تمہیں دودھ کا کوئی مٹکا یا مشکیزہ نظر آئے تو تین مرتبہ اونٹ کے مالکان کو آواز دو، اگر وہ تمہیں پلا دیں تو پی لو، ورنہ مت پیو اور اگر تم ضرورت مند ہو اور تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو تو اسے تم میں سے دو آدمی روک لیں، پھر اسے پی لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11419]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 11420 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَهْمِ:" يُتَوَخَّى"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فِيمَا أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہم کے بارے میں مروی ہے کہ اس کا قصد کیا جاتا ہے، ایک آدمی نے راوی سے پوچھا کیا یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ہے؟ تو راوی نے کہا کہ میرے علم کے مطابق تو ایسا ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، ويأتي نحوه برقم: 11782، وفيه: فليطرح الشك، وليين على ما استيقن
الحكم: إسناده صحيح، ويأتي نحوه برقم: 11782، وفيه: فليطرح الشك، وليين على ما استيقن
حدیث نمبر: 11421 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11421]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5822، م: 1512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5822، م: 1512
حدیث نمبر: 11422 مسند احمد
يُونُسُ ، وَهَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بنِ عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَهَاشِمٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ . قَالَ: هَاشِمٌ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 367، م: 1512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 367، م: 1512
حدیث نمبر: 11423 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالنَّاسُ صِيَامٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاةً، وَنَبِيُّ اللَّهِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، فَقَالَ:" اشْرَبُوا أَيُّهَا النَّاسُ" , قَالَ: فَأَبَوْا، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَيْسَرُكُمْ، إِنِّي رَاكِبٌ"، فَأَبَوْا، قَالَ: فَثَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ، فَنَزَلَ، فَشَرِبَ، وَشَرِبَ النَّاسُ، وَمَا كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَشْرَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گذر ایک نہر پر ہوا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، لوگوں کا اس وقت روزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پی لو، لیکن روزے کی وجہ سے کسی نے نہیں پیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر خود پانی پی لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر سب ہی نے پانی پی لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11424 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، زَيْدٌ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَقد تَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے تم حدیث بیان کرسکتے ہو، لیکن میری طرف جھوٹی نسبت نہ کرنا کیوں کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے اور بنی اسرائیل کے حوالے سے بھی بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 3004
الحكم: إسناده صحيح، م: 3004