حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ , قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ، وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي ," وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن دواک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا ہے کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے اور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11418]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1987
الحكم: إسناده صحيح، م: 1987