عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالنَّاسُ صِيَامٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاةً، وَنَبِيُّ اللَّهِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، فَقَالَ:" اشْرَبُوا أَيُّهَا النَّاسُ" , قَالَ: فَأَبَوْا، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَيْسَرُكُمْ، إِنِّي رَاكِبٌ"، فَأَبَوْا، قَالَ: فَثَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ، فَنَزَلَ، فَشَرِبَ، وَشَرِبَ النَّاسُ، وَمَا كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَشْرَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گذر ایک نہر پر ہوا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، لوگوں کا اس وقت روزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پی لو، لیکن روزے کی وجہ سے کسی نے نہیں پیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر خود پانی پی لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر سب ہی نے پانی پی لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11423]
الحكم: إسناده صحيح