أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخبرنا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا، فَنُحِبُّ الْإِثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكُمْ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ، إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمیں قیدی ملے، ہم چاہتے ہیں کہ انہیں فدیہ دے کر چھوڑ دیں تو عزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسے کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اللہ نے جس روح کو وجود عطا کرنے کا فیصلہ فرمالیا ہے وہ آکر رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11839]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2229، م: 1938
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2229، م: 1938