الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے تو اس کے بعد یہ فرماتے کہ اے ہمارے پروردگار! اے اللہ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں، زمین و آسمان اور اس کے علاوہ جنہیں آپ چاہیں، ان کے پر کرنے کی بقدر، آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہیں، بندے جو کہتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور ہم سب آپ کے بندے ہیں، جسے آپ کچھ دے دیں اس سے وہ چیز کوئی روک نہیں سکتا اور کسی مرتبہ والے کی بزرگی آپ کے سامنے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، وانظر ما قبله