يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَوْ أَخِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَرَأَيْتُ أَنَّ فِي ذِرَاعِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَرِهْتُهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا هَذَيْنِ الْكَذَّابَيْنِ: صَاحِبَ الْيَمَنِ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن ولا (اسود عنسی ' اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11816]
الحكم: إسناده حسن