أَبُو نُعَيْمٍ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَيَّادٍ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" , قَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا"، قَالَ: دُخٌّ , قَالَ:" اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن صیاد کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے پلٹ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کیا آپ میرے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے اپنے ذہن میں ایک بات سوچی ہے، بتا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا " دخ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دور ہو، تو اپنے مقام سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11776]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، الوليد ابن عبدالله بن جميع الزهري الكوفي متكلم فيه
الحكم: حديث صحيح ، الوليد ابن عبدالله بن جميع الزهري الكوفي متكلم فيه