حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فِطْرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ، قَالَ: فَقُمْنَا مَعَهُ، فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا، فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَضَيْنَا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ، وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ" , فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ"، قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ، قَالَ: وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی اہلیہ محترمہ کے گھر سے تشریف لے آئے، ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جوتی ٹوٹ گئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک کر جوتی سینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے چل پڑے، ہم بھی چلتے رہے، ایک جگہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے، ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جو قرآن کریم کی تاویل و تفسیر پر اسی طرح قتال کرے گا جیسے میں نے اس کی تنزیل پر قتال کیا ہے، یہ سن کر ہم جھانک جھانک کر دیکھنے لگے، اس وقت ہمارے درمیان حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جوتی سینے والا ہے، اس پر ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے گیئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11773]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن