أَبُو كَامِلٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ"، قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے پھل خریدے، لیکن اس میں اسے نقصان ہوگیا اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، لوگوں نے اسے صدقات دے دئیے، لیکن وہ اتنے نہ ہوسکے جن سے اس کے قرضے ادا ہوسکتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو مل رہا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1556
الحكم: إسناده صحيح، م: 1556