بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11639
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11639
حدیث نمبر: 11639 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّزٍ، عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا، أَوْ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، أَذِنَ لِطَائِفَةٍ مِنَ الْجَيْشِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ يَعْنِي مُزَاحًا، وَكُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَهُ، فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قَالَ: وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ، أَوْ يَصْطَلُونَ , قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِلاَّ صَنَعْتُمُوهُ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ , فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ، قَالَ: احْبِسُوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر جس میں میں بھی شامل تھا، علقمہ بن مجزز رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ فرمایا: جب ہم اپنی منزل پر پہنچے یا راستے ہی میں تھے تو حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی درخواست پر انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جو بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں حس مزاح بہت تھی، ان کا امیر مقرر کردیا، ان کے ساتھ واپس آنے والوں میں میں بھی تھا۔ راستے میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا پکانے کے لئے یا سردی دور کرنے کے لئے آگ جلائی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہنے لگے کہ کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے کہا کہ میں تمہیں جو حکم دوں گا وہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تمہیں اپنے حق اور اطاعت کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کے لئے کمر کسنے لگے، جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں چھلانگ لگا دیں گے تو انہوں نے کہا رک جاؤ، میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، لوگوں نے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم کو کسی گناہ کے کام کا حکم دے اس کی اطاعت مت کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11639]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (11638) باب پر واپس اگلی حدیث (11640) →