بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْنَ النِّسَاءُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَبَ عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَعِدْنَا مَوْعِدًا، فَوَعَدَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ قَدَّمَتْ ثَلَاثًا مِنْ وَلَدِهَا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ"، قَالَتْ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ , قَالَ:" وَاثْنَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ایک وقت مقررہ کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633
الحكم: إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633