وَكِيعٌ ، فِطْرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ"، قَالَ: فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ:" لَا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ"، وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11289]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن