عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا، ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ، ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ، فَأَبْعَدَهُ، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" هَذَا الْإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ، وَهَذَا أَمَلُهُ، يَتَعَاطَى الْأَمَلَ، يَخْتَلِجُهُ دُونَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاڑھی، دوسری اس کے قریب اور تیسری اس سے دور گاڑھی، پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور یہ اس کی امیدیں ہیں، جو درمیان سے نکل نکل کر اس تک پہنچتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11132]
الحكم: إسناده جيد