حَسَينٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَينٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحَدَّثَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِي قَدْ عَرِبَ بَطْنُهُ، فَقَالَ:" اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا"، قَالَ: فَسَقَاهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ:" اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَقَ، وَكَذَبَ بَطْنُ ابْنِ أَخِيكَ"، قَالَ: فَسَقَاهُ فَعَافَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بھتیجے کو دست لگ گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جاکر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھتیجے کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله .
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله .