بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11039
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11039
حدیث نمبر: 11039 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، مُطَرِّفٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدْ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ، يَنْظُرُ مَتَى يُؤْمَرُ"، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: قُولُوا:" حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے، مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا کہنا چاہئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل علیٰ اللہ توکلنا " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11039]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، ولاضطرابه فيه .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، ولاضطرابه فيه .
← پچھلی حدیث (11038) باب پر واپس اگلی حدیث (11040) →