بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11034
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11034
حدیث نمبر: 11034 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، وابن أبي لبيد ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وابن أبي لبيد ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ، مَرَّ بِنَا وَنَحْنُ نَنْقُلُ مَتَاعَنَا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مُعْتَكِفًا فَلْيَكُنْ فِي مُعْتَكَفِهِ، إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَنُسِّيتُهَا، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، وَعَرِيشُ الْمَسْجِدِ جَرِيدٌ" فَهَاجَتْ السَّمَاءُ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11034]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2040، م: 1167 وله ثلاثة أسانيد: أولها حسن، والثاني والثالث صحيحان
الحكم: حديث صحيح، خ: 2040، م: 1167 وله ثلاثة أسانيد: أولها حسن، والثاني والثالث صحيحان
← پچھلی حدیث (11033) باب پر واپس اگلی حدیث (11035) →