بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11203
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11203
حدیث نمبر: 11203 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، أَيُّوبُ بْنُ حَبِيبٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ، فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ؟"، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، قَالَ:" أَبِنْهُ عَنْكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ"، قَالَ: أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ، قَالَ:" فَأَهْرِقْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالمثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (11202) باب پر واپس اگلی حدیث (11204) →