مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَحُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ الْعِجْلِيُّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَحُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا؟" فَجَاءَ فُلَانٌ، فَقَالَ: أَنَا قَالَ:" أَمِطْ"، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" أَمِطْ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ، لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ، هَاكَ يَا عَلِيُّ"، فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا، قَالَ مُصْعَبٌ: بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ایک دن اپنے دست مبارک میں جھنڈا پکڑا اسے ہلایا اور فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے کون اسے پکڑے گا؟ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کردیا، پھر دوسرا آیا، اسے بھی واپس کردیا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کو معزز کیا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو کبھی راہ فرار اختیار نہیں کرے گا، علی! آگے آؤ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ جھنڈا لے کر روانہ ہوئے، حتیٰ کہ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا اور وہاں کی عجوہ کھجور اور قدید لے کر آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11122]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، عبدالله بن عصمة العجلي أبو علوان الحنفي تفرد بهذا الحديث، وهو ممن لا يحتمل تفرده .
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، عبدالله بن عصمة العجلي أبو علوان الحنفي تفرد بهذا الحديث، وهو ممن لا يحتمل تفرده .