(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ" , قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مہمان کا اکرام کب تک ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین دن تک، اس کے بعد اگر وہ وہاں ٹھہرتا ہے تو وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11726]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه