بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 10992
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 10992
حدیث نمبر: 10992 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ، فَأَنْكَرَهَا، قَالَ:" أَنَّى لَكَ هَذَا؟"، فَقَالَ: اشتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتُم".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سامعاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2302 ، 2333،م:1594
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2302 ، 2333،م:1594
← پچھلی حدیث (10991) باب پر واپس اگلی حدیث (10993) →