هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَعَرَضَ لِإِنْسَانٍ مِنْهُمْ فِي عَقْلِهِ أَوْ لُدِغَ، قَالَ: فَقَالُوا لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَل فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، فَأَتَى صَاحِبَهُمْ، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ، فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا، وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے، دورانِ سفر ان کا گذر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ اتفاقاً ان میں سے ایک آدمی کی عقل زائل ہوگئی یا اسے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ ان میں سے ایک نے " ہاں " کہہ دیا۔ اور اس آدمی کے پاس جا کر اسے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کردیا۔ وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا اور عرض کردیا کہ یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے تو صرف سورت فاتحہ پڑھ کر ہی دم کیا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2276، م: 2201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2276، م: 2201