بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 10994
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 10994
حدیث نمبر: 10994 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا، فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ، وَأَقِيمُوهَا، وَسُدُّوا الْفُرَجَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنَّ خَيْرَ الصُّفُوفِ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس سے اللہ گناہوں کو معاف فرمادے اور نیکیوں میں اضافہ فرمادے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو شخص بھی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرے، پھر مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرے تو فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے۔ جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو صفیں سیدھی کرلیا کرو، خالی جگہ کو پر کرلیا کرو، کیوں کہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ، کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو اور مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین پہلی صف ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10994]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات، عبدالله بن محمد بن عقيل سيئ الحفظ .
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات، عبدالله بن محمد بن عقيل سيئ الحفظ .
← پچھلی حدیث (10993) باب پر واپس اگلی حدیث (10995) →