هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ بِهِ حَاجَةٌ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَاهُ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا فَوَجَدْنَا لَهُ أَعْطَيْنَاهُ"، قَالَ: فَذَهَبَ، وَلَمْ يَسأْلْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کو ضرورت مندی نے آگھیرا، اس کے اہل خانہ نے اس سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یہ سن کر وہ آدمی واپس چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1469، م:1053
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1469، م:1053