بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 14 از 31
حدیث نمبر: 26058 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادٌ ، أَبَا نَهِيكٍ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ , أَنَّ أَبَا نَهِيكٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ , فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ , فَأَخْبَرُوهَا , فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ , فَيُوتِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ لوگوں سے تقریر کے دوران فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو صبح کا وقت ہوجائے اور اس نے وتر نہ پڑھے ہوں تو اب اس کے وتر نہیں ہوں گے، کچھ لوگوں نے یہ بات جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو بعض اوقات صبح ہونے پر بھی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26058]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل أبى نهيك إن ثبت سماعه من عائشة
الحكم: إسناده حسن من أجل أبى نهيك إن ثبت سماعه من عائشة
حدیث نمبر: 26059 مسند احمد
مُعَاذٌ بن معاذ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ بن معاذ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْلُتُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ بِعِرْقِ الْإِذْخِرِ , ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ , وَيَحُتُّهُ مِنْ ثَوْبِهِ يَابِسًا , ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات اپنے کپڑوں سے مادہ منویہ کو " اذخر " گھاس کے عرق سے دھو لیا کرتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اگر وہ مادہ خشک ہوگیا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کھرچ دیتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26059]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: "بعرق الإذخر" وهذا إسناد فيه عبدالله بن عبيد بن عمير لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث صحيح دون قولها: "بعرق الإذخر" وهذا إسناد فيه عبدالله بن عبيد بن عمير لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 26060 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ حَزْمٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنِ ابْنِ حَزْمٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا , فَأَطْعَمْتُهَا تَمْرَةً , فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا , وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ: " مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ , فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ , كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کجھور دی، اس نے کجھور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26060]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن أبى حفصة فيه ضعف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن أبى حفصة فيه ضعف ولكن توبع
حدیث نمبر: 26061 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، خَيْثَمَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا لَبَّتْ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26061]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26062 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ ، خَيْثَمَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ , عَنْ خَيْثَمَةَ , عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي بَعْدَ ذَلِكَ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ" , قَالَ أَبِي: أَبُو عَطِيَّةَ اسْمُهُ مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26062]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26063 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ , وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 26064 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 26065 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ , أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ , وَأَهَلَّ نَاسٌ مَعَهُ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقُوا الْهَدْيَ , وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُوقُوا هَدْيًا , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ أَسُقْ هَدْيًا , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ , فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَلَا يَحِلُّ مِنْهُ شَيْءٌ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَنْحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ , وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقْ مَعَهُ هَدْيًا , فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ لِيُفِضْ وَلْيَحِلَّ , ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ , فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ الَّذِي خَافَ فَوْتَهُ , وَأَخَّرَ الْعُمْرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے گئے تھے، جبکہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور ہدی ساتھ لے گئے اور کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن ہدی ساتھ نہیں لے کر گئے، میں اس آخری قسم کے لوگوں میں شامل تھی، مکہ مکرمہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھ کر ہدی ساتھ لایا ہے، اسے چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کی سعی کرلے اور دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے اور حج مکمل ہونے تک اپنے اوپر کوئی چیز محرمات میں سے حلال نہ سمجھے اور جو ہدی نہیں لایا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہوجائے، بعد میں حج کا احرام باندھ کر ہدی لے جائے، جس شخص کو قربانی کا جانور نہ ملے، وہ حج کے ایام میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھ لے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے حج کو " جس کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا " مقدم کر کے عمرے کو مؤخر کردیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26065]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قول عائشة: "فقدم رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم..." صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح دون قول عائشة: "فقدم رسول الله ﷺ..." صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
حدیث نمبر: 26066 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ , فَقُلْتُ: إِنِّي مَا خَفِيَتْ عَلَيَّ مِنْهُنَّ لَيْلَةٌ , إِنَّمَا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٩ ٢ کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26066]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن أبى مليكة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن أبى مليكة
حدیث نمبر: 26067 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا نُكَذِّبُهُ , قَالَ: أَخْبَرْتُ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" , فَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ , وَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , لَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ: " الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے، انہوں نے اس پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عبدالرحمن کی اللہ بخشش فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا، انہوں نے تو یہ فرمایا تھا کہ مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26067]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وإسناده كسابقه
الحكم: حديث صحيح وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 26068 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ , وَكَانَ يَوْمٌ فِيهِ تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ , فَلَمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَمَضَانَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ , وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26068]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن أبى حفصة ضعيف يعتبر به وقد توبع هنا، خ: 1592
الحكم: حديث صحيح، محمد بن أبى حفصة ضعيف يعتبر به وقد توبع هنا، خ: 1592
حدیث نمبر: 26069 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَطَاءٌ ، أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ , فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ , وَلَا يَصْخَبْ , فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ أَحَدٌ , فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزے سے ہو تو اس دن بیہودہ گوئی اور شورو غل نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے گالی دینا یا لڑنا چاہے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26070 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 487
الحكم: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 26071 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 26072 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، عَبْدَ خَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ , قَالَ أَبِي: وَإِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: إِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ , وَهِمَ شُعْبَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وباء حنتم اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26072]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26073 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، شُمَيْسَةَ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنِ شُمَيْسَةَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَامَ إِلَيْهَا إِنْسَانٌ , فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَتْ:" نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نیند سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26073]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شميسة ولكن توبعت
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شميسة ولكن توبعت
حدیث نمبر: 26074 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، مُحَمَّدُ بْنُ أبي بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، شُمَيْسَةَ ، عَائِشَةَ
قال عبد الله بن أحمد بن حنبل: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أبي بَكْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ شُمَيْسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26074]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 26075 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي صَلَاتِهِ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ , فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَعَوَّذُ مِنَ الْمَغْرَمِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ , حَدَّثَ فَكَذَبَ , وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے تھے، اے اللہ! میں گناہوں اور تاوان سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ اتنی کثرت سے تاوان سے پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان پر جب تاوان آتا ہے (اور وہ مقروض ہوتا ہے) تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26075]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
حدیث نمبر: 26076 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" , وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّتْ , وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہوسکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26076]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26077 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ شَهْرٌ مَا نَخْتَبِزُ فِيهِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , فَمَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا , كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ يُهْدُونَ مِنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دوہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرمالیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2567، م: 2972
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2567، م: 2972