بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 23 از 31
حدیث نمبر: 26238 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْإِذْخِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں ثنیہ اذخر سے داخل ہوئے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26238]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبيدالله بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبيدالله بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26239 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنٌ ، مَهْدِيٌّ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ:" كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ , وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ , قَالَتْ: وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26239]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 676
الحكم: حديث صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 26240 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ , ذُكِرَ أَنَّ الْحُمَّى صَرَعَتْهُمْ , فَمَرِضَ أَبُو بَكْرٍ , وَكَانَ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ قَالَتْ: وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ الْعَنْ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ , وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ , وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ , كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ , فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَقُوا قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ , أَوْ أَشَدَّ , اللَّهُمَّ صَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا , وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ" قَالَ: فَكَانَ الْمَوْلُودُ يُولَدُ بِالْجُحْفَةِ , فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتَّى تَصْرَعَهُ الْحُمَّى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی اور کیا شامہ اور طفیل میرے سامنے واضح ہو سکیں گے؟ اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1889، م: 1376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1889، م: 1376
حدیث نمبر: 26241 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , يَعْنِي حَدِيثَ حَمَّادٍ , إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْمَوْلُودِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3926، م: 1376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3926، م: 1376
حدیث نمبر: 26242 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كُلُّ صَوَاحِبِي لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي , قَالَ: " فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ" , فَكَانَتْ تُدْعَى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ انتقال تک انہیں " ام عبداللہ " کہہ کر پکارا جاتا رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26242]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26243 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ , كَانَ جِبْرِيلُ يُعِيذُهُ بِهِ , وَيَدْعُو لَهُ بِهِ إِذَا مَرِضَ , قَالَتْ فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ بِهِ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , بِيَدِكَ الشِّفَاءُ , لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ , اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" , قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَدْعُو لَهُ بِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ , فَقَالَ:" ارْفَعِي عَنِّي" قَالَ:" فَإِنَّمَا كَانَ يَنْفَعُنِي فِي الْمُدَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیمار ہوئے تو میں ان پر وہی کلمات پڑھ کر دم کرنے لگی جن سے حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں دم کرے تھے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام نشان بھی نہ چھوڑے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑ کر یہ دعاء پڑھنے لگی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا لو، یہ ایک خاص وقت تک ہی مجھے نفع دے سکتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26243]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: أرفعي عني، فإنما... فقد تفرد بها عمرو بن مالك، قال ابن حجر عنه: صدوق له اوهام
الحكم: حديث صحيح دون قوله: أرفعي عني، فإنما... فقد تفرد بها عمرو بن مالك، قال ابن حجر عنه: صدوق له اوهام
حدیث نمبر: 26244 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ , وَالْفَأْرَةُ , وَالْحُدَيَّا , وَالْغُرَابُ , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 26245 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26245]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 973
الحكم: حديث صحيح، م: 973
حدیث نمبر: 26246 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُسْلِمَ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا قَصَّرَ مِنْ ذُنُوبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26246]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه كلام، خ: 5640، م: 2572
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه كلام، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 26247 مسند احمد
يُونُسُ ، عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ ، أُمِّي ، أُمَّهَا ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمِّي , تُحَدِّثُ، أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً , وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ , قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ , وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ , فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ؟ قَالَتْ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ , لَا أَحْسِبُهَا إِلَّا قَالَتْ: ثَلَاثَ مِرَارٍ , لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ , وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ , وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى إِثْرِ الْأُخْرَى , وَإِنَّهُ لَيَقُولُ: " اكْتُبْ عُثْمَانُ" قَالَتْ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ ان کے چچا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیونکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو لعنت کرے، اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو، واللہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے فرماتے تھے! عثمان! لکھو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں سے ان کا نکاح کیا تھا، اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26247]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل عمر بن إبراهيم اليشكري
الحكم: إسناده ضعيف لأجل عمر بن إبراهيم اليشكري
حدیث نمبر: 26248 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ حَمَّادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ , فَيُخْرِجُ رَأْسَهُ , فَأَغْسِلُهُ بِالْخِطْمِيِّ وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے خطمی سے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26248]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حماد وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حماد وقد توبع
حدیث نمبر: 26249 مسند احمد
يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ قِلَادَةُ جَزْعٍ , فَقَالَ: " لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ" , فَقَالَتْ النِّسَاءُ: ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ , فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِ أُمَامَةَ بِنْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس پر مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابو قحافہ کی بیٹی لے گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26249]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 26250 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، شُمَيْسَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شُمَيْسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ , وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلٌ مِنَ الْإِبِلِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ: " إِنَّ بَعِيرَ صَفِيَّةَ قَدْ اعْتَلَّ , فَلَوْ أَنَّكِ أَعْطَيْتِيهَا بَعِيرًا" , قَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ , فَتَرَكَهَا , فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , حَتَّى رَفَعَتْ سَرِيرَهَا , وَظَنَّتْ أَنَّهُ لَا يَرْضَى عَنْهَا , قَالَتْ: فَإِذَا أَنَا بِظِلِّهِ يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ , فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَتْ سَرِيرَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے، دوران سفر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیمار ہوگیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے پاس اونٹ میں گنجائش موجود تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صفیہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیمار ہوگیا ہے، اگر تم انہیں اپنا ایک اونٹ دے دو تو ان کے لئے آسانی ہوجائے گی، انہوں نے کہا کہ میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا، ان کے پاس جاتے ہی نہ تھے، وہ خود کہتی ہیں کہ بالآخر میں ناامید ہوگئی اور اپنی چار پائی کی جگہ بدل لی، اچانک ایک دن نصف النہار کے وقت مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سایہ سامنے سے آتا ہوا محسوس ہوا (اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے راضی ہوگئے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26250]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة شميسة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة شميسة
حدیث نمبر: 26251 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَاتُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں مؤخر کردیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کرلیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
حدیث نمبر: 26252 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " سَابَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَبَقْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26252]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26253 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، بُدَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26254 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مِنْ جِمَاعٍ لَا احْتِلَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر کے لئے نکلتے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل کا وجوب اختیاری طور پر ہوتا تھا، غیر اختیاری طور پر نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26254]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم ابن بهدلة، خ: 1930، م: 1109
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم ابن بهدلة، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 26255 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، الْأَعْمَشِ ، حَبِيبٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَسَبْعِينَ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي اسْتُحِضْتُ؟ قَالَ: " دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ , ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26255]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 228، م: 333
الحكم: حديث صحيح، خ: 228، م: 333
حدیث نمبر: 26256 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، أَبُو قَزَعَةَ ، عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ ، ابْنَ الزُّبَيْرِ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ , إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ , كَيْفَ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , وَيَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهَا وَهِيَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ نَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ , إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ" , قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , فَأَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ , قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ , قَالَ: لَوْ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَنْقُضَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقزعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، دوران طواف وہ کہنے لگا کہ ابن زبیر پر اللہ کی مار ہو، وہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کر کے کہتا ہے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو شہید کر کے حطیم کا حصہ بھی اس کی تعمیر میں شامل کردیتا کیونکہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت میں سے اسے چھوڑ دیا تھا، اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ حدیث تو میں نے بھی ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے، تو عبد الملک نے کہا کہ اگر میں نے اسے شہید کرنے سے پہلے یہ حدیث سنی ہوتی تو میں اسے ابن زبیر کی تعمیر پر بر قرار رہنے دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1333
الحكم: إسناده صحيح، م: 1333
حدیث نمبر: 26257 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو هِلَالٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا , فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26257]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 730
الحكم: حديث صحيح، م: 730