بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 13 از 31
حدیث نمبر: 26038 مسند احمد
مُعَاذٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ , وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ , فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ قِرَاءَتَهُ , فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ , فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ كَثُرُوا , فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ: " اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ , وَإِنْ قَلَّ , قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کردیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26038]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل محمد بن عمرو وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل محمد بن عمرو وقد توبع
حدیث نمبر: 26039 مسند احمد
مُعَاذٌ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا , وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا , وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا , رَكَعَ جَالِسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26040 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ , قَالَ: قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23 , وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 قَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا , فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَاكِ جِبْرِيلُ" , لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ , سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ " انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26040]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 177
الحكم: إسناده صحيح، م: 177
حدیث نمبر: 26041 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، عَامِرٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ , لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَاتِ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ سورة الأحزاب آية 37 إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولا سورة النساء آية 47" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سے کوئی آیت چھپانا ہوتی تو یہ آیت " جو ان کی اپنی ذات سے متعلق تھی " چھپاتے " اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ نے بھی احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، جبکہ آپ اپنے ذہن میں ایسے وسوسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جن کا حکم بعد میں اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کے طعنوں کا خوف کر رہے تھے۔ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26041]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن عامرا لم يسمع من عائشة، م: 177
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن عامرا لم يسمع من عائشة، م: 177
حدیث نمبر: 26042 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " قَدْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ , فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ , وَصَلَاةَ الْفَجْرِ , لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا , قَالَ: وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کردیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرأت لمبی ہوجاتی ہے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر جاتے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26042]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة ، الشعبي لم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، الشعبي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 26043 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، عَزْرَةَ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ طَيْرٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , حَوِّلِيهِ , فَإِنِّي إِذَا رَأَيْتُهُ , ذَكَرْتُ الدُّنْيَا" وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ يَلْبَسُهَا , تَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ! اس پردے کو بدل دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح کی ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، م: 2107
حدیث نمبر: 26044 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، مِسْعَرٌ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ , حَبِيبَةُ حَبِيبِ اللَّهِ الْمُبَرَّأَةُ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ , فَلَمْ أُكَذِّبْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ مجھ سے صدیقہ بنت صدیق، حبیب اللہ علیہ السلام کی چہیتی اور ہر تہمت سے مبرا ہستی نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اس لئے میں ان کی تکذیب نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26044]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد اختلف فيه على مسعر، خ: 593، م: 835
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد اختلف فيه على مسعر، خ: 593، م: 835
حدیث نمبر: 26045 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26045]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1928، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 26046 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، كَهْمَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ , عَنْ كَهْمَسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" عَائِشَةُ , قُلْتُ: فَمِنْ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ:" أَبُوهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی؟ انہوں نے بتایا عائشہ سے کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ مردوں میں سے؟ انہوں نے فرمایا عائشہ کے والد سے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26046]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على عبدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على عبدالله
حدیث نمبر: 26047 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، عَامِرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ مَكَّةَ وَلَا الْمَدِينَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سگے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26047]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث فاطمة بنت قيس، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن عامرا لم يسمع من عائشة
الحكم: صحيح من حديث فاطمة بنت قيس، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن عامرا لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 26048 مسند احمد
عَبْدَةُ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: " كَانَ يُرَقِّعُ الثَّوْبَ , وَيَخْصِفُ النَّعْلَ , أَوْ نَحْوَ هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے ہر کوئی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور کپڑوں پر خود پیوند لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26048]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه
حدیث نمبر: 26049 مسند احمد
عَبْدَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا عَلِمْنَا أَيْنَ يُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي , مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ" , قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَالْمَسَاحِي: الْمُرُورُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26049]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين
الحكم: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26050 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي لَيْثٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي لَيْثٍ , عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينِ الْبَغِيضِ النَّافِعِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّهُ يَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ" , وَقَالَتْ: كَانَ إِذَا اشْتَكَى مِنْ أَهْلِهِ إِنْسَانٌ , لَا تَزَالُ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَحَدُ طَرَفَيْهِ , وَقَالَ: يَعْنِي رَوْحٌ بِبَغْدَادَ , كَانَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ شَيْئًا لَا تَزَالُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے نیز اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ کے کوئی بیمار ہوجاتا تو آگ پر ہنڈیا مسلسل چڑھی رہتی، یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک کام (موت یا صحت مند) ہوجاتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26050]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
حدیث نمبر: 26051 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، وَالضَّحَّاكُ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ وَالضَّحَّاكُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ: " وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ , قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَابِ , وَقُمْتُ وَرَاءَهُ أَنْظُرُ فِيمَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ , وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ" , قَالَ عَطَاءٌ: فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ , وقَالَ ابْنُ عُمَيْرٍ: هُمْ حَبَشٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، م: 892
حدیث نمبر: 26052 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، بُنَانَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: بَيْنَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ , فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلُوهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا , فَسَأَلَتْهَا بُنَانَةُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ , وَلَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنانہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ان کے یہاں ایک بچی آئی جس کے پاؤں میں گھونگھرو تھے اور ان کی بجنے کی آواز آرہی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے پاس اس بچی کو نہ لاؤ، الاّ یہ کہ اس کے گھنگھرو اتار دو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، بنانہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور ایسے قافلے کے ساتھ بھی فرشتے نہیں جاتے جس میں گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26052]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتدليس ابن جريج ولجهالة بنانة
الحكم: إسناده ضعيف لتدليس ابن جريج ولجهالة بنانة
حدیث نمبر: 26053 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ , وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ , وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ , وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے ہی رکھتے رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
حدیث نمبر: 26054 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَكْرٍ عَاصِمٍ ، قُرَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَاصِمٍ مَوْلًى لِقُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ قُرَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: " أَنَا لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ , إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26054]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة قريبة وعاصم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة قريبة وعاصم
حدیث نمبر: 26055 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، قُرَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ , عَنْ قُرَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26055]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وإسناده كسابقه
الحكم: حديث صحيح وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 26056 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، أَوْفَى بْنُ دَلْهَمٍ الْعَدَوِيُّ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , حَدَّثَنَا أَوْفَى بْنُ دَلْهَمٍ الْعَدَوِيُّ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنَالُ شَيْئًا مِنْ وُجُوهِنَا وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں ہمیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26056]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26057 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمِ , وَلَا فِي النَّقِيرِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ , وَلَا تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا , وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نبیذ نہ بنایا کرو، کشمش اور کجھور کو ملا کر یا کچی اور پکی کجھور کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26057]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: "ولا تنتبذوا الزبيب ..." فصحيح لغيره وهذا اسناد ضعيف لجهالة ثمامة بن كلاب
الحكم: حديث صحيح دون قوله: "ولا تنتبذوا الزبيب ..." فصحيح لغيره وهذا اسناد ضعيف لجهالة ثمامة بن كلاب