بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 27 از 31
حدیث نمبر: 26318 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: " سُجِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ بِثَوْبٍ حِبَرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
حدیث نمبر: 26319 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" , قَالَتْ: فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ سورة النساء آية 69 قَالَتْ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مرض الوفات میں دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلا انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت کیا خوب ہے، میں سمجھ گئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس وقت اختیار دیا گیا ہے۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4435، م: 2444
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4435، م: 2444
حدیث نمبر: 26320 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعْدٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ , قَالَ سَعْدٌ التَّيْمِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَتْ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقَبِّلَنِي , فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ؟ فَقَالَ: " وَأَنَا صَائِمٌ" ثُمَّ قَبَّلَنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26321 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: أَهْوَى إِلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي , قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي صَائِمَةٌ , قَالَتْ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا صَائِمٌ" ثُمَّ قَبَّلَنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26321]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26322 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26323 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ , يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ" قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ , وَإِنَّهُ إِنْ قَامَ فِي مُصَلَّاكَ بَكَى , فَمُرْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلْيُصَلِّ بِهِمْ , قَالَتْ: فَقَالَ:" مَهْلًا , مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ" , قَالَتْ: فَعُدْتُ لَهُ فَقَالَ:" مَهْلًا , مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ" , قَالَتْ: فَعُدْتُ لَهُ , فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ , إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 712، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 712، م: 418
حدیث نمبر: 26324 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِي حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا ہے تو ان کا سر میری گود میں تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2741، م: 1636
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2741، م: 1636
حدیث نمبر: 26325 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا أَلْقَاهُ السَّحَرَ الْآخِرَ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26325]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1133، م: 742
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1133، م: 742
حدیث نمبر: 26326 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ الْحُدَيْبِيَةِ , قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ , فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ وَلا يَقْتُلْنَ أَوْلادَهُنَّ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة الممتحنة آية 12 قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ , قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ بَايَعْتُكِ كَلَامًا" وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ , مَا بَايَعَهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ:" قَدْ بَايَعْتُكِ عَلَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے پاس ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں سے اس آیت کی شرائط پر امتحان لیا کرتے تھے جس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب آپ کے پاس مومن عورتیں ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری اور بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو آپ انہیں بیعت کرلیا کریں اور اللہ سے ان کے لئے بخشش کی دعا کیا کریں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو مومن عورت ان شرائط کا اقرار کرلیتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زبان سے کہہ دیتے کہ میں نے تمہیں بیعت کرلیا ہے، واللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ لگا کر بیعت نہیں لی، بلکہ صرف یہی کہہ کر بیعت فرما لیتے تھے کہ میں نے تمہیں بیعت کرلیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26326]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4182، م: 1866
الحكم: حديث صحيح، خ: 4182، م: 1866
حدیث نمبر: 26327 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْتَعِيذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26327]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7129، م: 587
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7129، م: 587
حدیث نمبر: 26328 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ , ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ , فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ , الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حبشی صحن میں کرتب دکھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے وہ کرتب دکھانے کے لئے اپنی چادر سے پردہ کرنے لگے، میں ان کے کانوں اور کندھے کے درمیان تھی، پھر وہ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں واپس چلی گئیں، اب تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ایک نو عمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26328]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 454، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 454، م: 892
حدیث نمبر: 26329 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26329]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2697، م: 1718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2697، م: 1718
حدیث نمبر: 26330 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ , رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنَّا فُضُلٌ , وَإِنَّا كُنَّا نَرَاهُ وَلَدًا , وَكَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ تَبَنَّاهُ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 " فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا" , فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ , فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا , وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ , ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا , وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ , وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ مِنْ دُونِ النَّاسِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوحذیفہ سے سالم کو " جو ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے " اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زید بن حارثہ کو بنا لیا تھا، زمانہ جاہلیت میں لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور اسے وراثت کا حق دار بھی قرار دیتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی انہیں ان کی آباؤ اجداد کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی ہے "۔ اسی پس منظر میں ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کردیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے پانچ گھونٹ اپنا دودھ پلادو، چنانچہ اس کے بعد سالم ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے، اس وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جس شخص کو " خواہ وہ بڑی عمر کا ہوتا " اپنے گھر آنے کی اجازت دینا مناسب سمجھتیں تو اپنی کسی بہن یا بھانجی سے اسے دودھ پلوا دیتیں اور وہ ان کے یہاں آتا جاتا، لیکن حضرت ام سلمہ اور دیگر ازواجِ مطہرات اس رضاعت سے کسی کو اپنے یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ہمیں معلوم نہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ رخصت صرف سالم کے لئے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26330]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5088، م: 1453
الحكم: حديث صحيح، خ: 5088، م: 1453
حدیث نمبر: 26331 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ , قَالَتْ: فَلَمْ يَفْعَلْ , قَالَتْ: وَكَانَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْنَ لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ , فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ , وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً , فَرَآهَا عُمَرُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُكِ يَا سَوْدَةُ , حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ , قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات قضاء حاجت کے لئے خالی میدانوں کی طرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت سودہ قضاء حاجت کے لئے نکلیں، چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ کو دیکھ کر دور سے ہی پکارا سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا اور یہ بات انہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے کی امید میں کہی تھی، چنانچہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6240، م: 2170
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6240، م: 2170
حدیث نمبر: 26332 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ: " فُوَيْسِقٌ" قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھپکلی کو نقصان دہ قرار دیا ہے، لیکن میں نے انہیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26332]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1831
الحكم: حديث صحيح، خ: 1831
حدیث نمبر: 26333 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ , فَقَالَتْ: شَعَرْتُ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ , قَالَتْ: فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَارْتَاعَ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا يُفْتَنُ الْيَهُودُ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لَيَالِيَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ یہ کہہ رہی تھی کیا تمہیں معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26333]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6366، م: 586
الحكم: حديث صحيح، خ: 6366، م: 586
حدیث نمبر: 26334 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهُ جَاءَهَا أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ , وَأَبُو الْقُعَيْسِ أَرْضَعَ عَائِشَةَ , فَجَاءَهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا , فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ , حَتَّى ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ , جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ , فَلَمْ آذَنْ لَهُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي , إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ؟ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنِي لَهُ حِينَ يَأْتِيكِ , فَإِنَّهُ عَمُّكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں داخل ہو نیکی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یا رسول اللہ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26334]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4796، م: 1445
الحكم: حديث صحيح، خ: 4796، م: 1445
حدیث نمبر: 26335 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ دَخَلَتْ عَلَيْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: وَنَفِسَتْ فِيهَا أَرَأَيْتِ إِنْ عَدَّيْتُ لِأَهْلِكِ الَّذِي عَلَيْكِ عَدَّةً وَاحِدَةً , أَيَفْعَلُنَّ ذَلِكَ وَأُعْتِقُكِ فَتَكُونِي مَوْلَاتِي؟ فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا , فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ , فَقَالُوا: لَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكَ لَنَا , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِي فَأَعْتِقِي , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً , فَقَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ , أَلَا مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ , وَإِنْ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدل کتابت ادا کردیتی ہوں لیکن تمہاری ولاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26335]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2155، م: 1504
الحكم: حديث صحيح، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 26336 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ طَامِثٌ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ , فَيَتَّكِئُ إِلَى أُسْكُفَّةِ بَابِ عَائِشَةَ , فَتَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اپنے حجرے ہی میں بیٹھ کر اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26336]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 301، م: 297
الحكم: حديث صحيح، خ: 301، م: 297
حدیث نمبر: 26337 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ , وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ لَهَا: صَلَاةُ الْعَتَمَةِ , قَالَتْ: فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ: الصَّلَاةَ , قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ: " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرَكُمْ" , وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا یہ اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26337]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 569، م: 238
الحكم: حديث صحيح، خ: 569، م: 238