بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 9 از 31
حدیث نمبر: 25958 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ , فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا" , فَلَمْ يَرْضَوْا , قَالَ:" فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا" , فَلَمْ يَرْضَوْا , قَالَ:" فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا" , فَرَضُوا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ , فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا , أرَضِيتُمْ؟" , قَالُوا: لَا , فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا , فَكَفُّوا , ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ , وَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟" , قَالُوا: نَعَمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے ایک علاقے میں بھیجا، وہاں ایک آدمی نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں ابوجہم سے جھگڑا کیا، ابوجہم نے اسے مارا اور زخمی ہوگیا، اس قبیلے کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمیں قصاص دلوائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم قصاص کا مطالبہ چھوڑ دو، میں تمہیں اتنا مال دوں گا، لیکن وہ لوگ راضی نہ ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی مقدار میں مزید اضافہ کیا، لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، البتہ تیسری مرتبہ اضافہ کرنے پر وہ لوگ راضی ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضا مندی کے متعلق بتادوں؟ انہوں نے کہا جی ضرور۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قبیلہ کے یہ لوگ میرے پاس قصاص کی درخواست لے کر آئے تھے، میں نے انہیں اتنے مال کی پیشکش کی ہے اور یہ راضی ہوگئے ہیں، پھر ان سے فرمایا کیا تم راضی ہوگئے؟ انہوں نے انکار کردیا، اس پر مہاجرین کو بہت غصہ آیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رکنے کا حکم دے دیا، وہ رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلا کر مقررہ مقدار میں مزید اضافہ کردیا اور فرمایا اب تو راضی ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتادوں؟ انہوں نے کہا جی ضرور، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیا اور ان سے پوچھا کیا تم راضی ہوگئے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25959 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , فَذَكَرَ حَدِيثًا ثُمَّ، قَالَ , قَالَ: الزُّهْرِيُّ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ , وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ , ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ , فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ , فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ , وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ , وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ , ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا , حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ , فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ , فَقَالَ: " اقْرَأْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقلت:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ" قَالَ:" فَأَخَذَنِي , فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ , ثُمَّ أَرْسَلَنِي , فَقَالَ: اقْرَأْ , فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئ" فَأَخَذَنِي , فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ , حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ , ثُمَّ أَرْسَلَنِي , فَقَالَ: اقْرَأْ , فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ" , فَأَخَذَنِي , فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ , ثُمَّ أَرْسَلَنِي , فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سورة العلق آية 1 , حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ سورة العلق آية 5 , قَالَ: فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ , حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ , فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي" , فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ , فَقَالَ:" يَا خَدِيجَةُ مَالِي؟" فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ , قَالَ:" وَقَدْ خَشِيتُ عَلَيَّ" , فَقَالَتْ: لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ , فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا , إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ , وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ , وَتَحْمِلُ الْكَلَّ , وَتَقْرِي الضَّيْفَ , وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ , ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ , وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا , وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ , فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ , وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ , فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: أَيْ ابْنَ عَمِّ , اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ , فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي , مَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى , فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا , أَكُونَ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ" , فَقَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ , لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ , وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ , أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا , ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ , وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ , فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ , تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ , وَتَقَرُّ نَفْسُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ , فَيَرْجِعُ , فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ , وَفَتَرَ الْوَحْيُ , غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ , فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ , تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اول سچی خوابوں سے وحی کا نزول شروع ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو خواب دیکھتے وہ بالکل صبح روشن کی طرح ٹھیک پڑتا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خلوت پسند ہوگئے تھے اور غار حرا میں جا کر گوشہ گیری اختیار کرلی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کئی کئی روز تک وہیں پر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اسی اثناء میں گھر پر بالکل نہ آتے تھے لیکن جس وقت کھانے پینے کا سامان ختم ہوجاتا تھا تو پھر اتنے ہی دنوں کا کھانا لے کر چلتے تھے، آخر کار اسی غار حرا میں نزول وحی ہوا۔ ایک فرشتہ نے آکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا پڑھئے! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں) یہ سن کر اس فرشتہ نے مجھ کو پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں بےطاقت ہوگیا، پھر اس فرشتہ نے مجھ کو چھوڑ کر کہا پڑھئے! میں نے کہا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس نے دوبارہ مجھ کو پکڑ کر اس قدر دبوچا کہ مجھ میں طاقت نہیں رہی اور پھر چھوڑ کر مجھ سے کہا پڑھئے میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تیسری بار اس نے مجھ کو اس قدر زور سے دبایا کہ میں بےبس ہوگیا اور آخر کار مجھ کو چھوڑ کر کہا! کہ " پڑھ " اپنے رب کے نام کی برکت سے جس نے (ہر شئ کو) پیدا کیا (اور) انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا پڑھ اور تیرا رب بڑے کرم والا ہے "۔ (ام المومنین فرماتی ہیں) آپ یہ بات پڑھتے ہوئے گھر تشریف لائے تو اس وقت آپ کا دل دھڑک رہا تھا، چنانچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر آپ نے فرمایا مجھے کمبل اڑھاؤ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو کپڑا اوڑھایا، جب آپ کی بےقراری دور ہوئی اور دل ٹھکانے ہوا تو ساری کیفیت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے بیان فرمائی اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ کی قسم! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، آپ کو بالکل فکر نہ کرنی چاہیے، خدائے تعالیٰ آپ کو ضائع نہ کرے گا کیونکہ آپ تو برادر پرور ہیں محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، کمزوروں کا کام کرتے ہیں، مہمان نوازی فرماتے ہیں اور جائز ضرورتوں میں لوگوں کے کام آتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ نے دور جاہلیت میں عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا اور انجیل کا (سریانی زبان سے) عبرانی میں ترجمہ کر کے لکھا کرتے تھے، بہت ضعیف العمر اور نابینا بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس پہنچ کر کہا ابن عم ذرا اپنے بھتیجے کی حالت تو سنئے! ورقہ بولا کیوں بھتیجے کیا کیفیت ہے؟ آپ نے جو کچھ دیکھا تھا ورقہ سے بیان کردیا جب ورقہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب حال سن چکے تو بولے یہ فرشتہ وہی ناموس ہے، جس کو خدائے تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا کاش! میں عہد نبوت میں جوان ہوتا کاش! میں اس زمانہ میں زندہ ہوتا جب کہ آپ کو قوم والے (وطن سے) نکالیں گے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ بولے جی ہاں! جو شخص بھی آپ کی طرح دین الٰہی لایا ہے اس سے عداوت کی گئی ہے، اگر میں آپ کے عہد نبوت میں موجود ہوا تو کافی امداد کروں گا، لیکن اس کے کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہوگیا اور سلسلہ وحی بند گیا، فترتِ وحی کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ کئی مرتبہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانے کا ارادہ کیا، لیکن جب بھی وہ اس ارادے سے کسی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سامنے آجاتے اور عرض کرتے اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ اللہ کے برحق رسول ہیں، اسے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جوش ٹھنڈا اور دل پر سکون ہوجاتا تھا اور وہ واپس آجاتے، پھر جب زیادہ عرصہ گذر جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر اسی طرح کرتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں تسلی دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4956، م: 160
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4956، م: 160
حدیث نمبر: 25960 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الْحَبَشَةَ لَعِبُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي , فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْكِبِهِ حَتَّى شَبِعْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، م: 892
حدیث نمبر: 25961 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ , فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي يَلْعَبْنَ مَعِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری سہلیوں کو میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6130، م: 2440
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6130، م: 2440
حدیث نمبر: 25962 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ: قَالَ لِي عُرْوَةُ ، إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمَئِذٍ لِتَعْلَمَ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً , إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے دین میں بڑی گنجائش ہے اور مجھے خالص ملت حنیفی بھیجا گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25962]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25963 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ , ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا , وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا , وَإِنْ قَلَّتْ: وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر دوام بھی فرماتے تھے اور انہیں سب سے زیادہ پسند بھی وہی نماز تھی جس پر دوام ہو، اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہو اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25964 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَ أَكْثَرُ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ مِنْ شَعْبَانَ , فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 25965 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ , قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ؟ فَبَعَثَ مَعِي أَخِي , فَاعْتَمَرْتُ , فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا اور میں نے عمرہ کرلیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 25966 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، مِصْدَعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ , عَنْ مِصْدَعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ , وَيَمُصُّ لِسَانَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25966]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: "ويمص لسانها" وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار وقد انفرد بهذه اللفظة
الحكم: حديث صحيح دون قولها: "ويمص لسانها" وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار وقد انفرد بهذه اللفظة
حدیث نمبر: 25967 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ , فَزَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ , وَتَرَكَ صَلَاةَ السَّفَرِ عَلَى نَحْوِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابتداء نماز کی دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم الٰہی کے مطابق حضر کی نماز میں اضافہ کردیا اور سفر کی نماز کو اسی حالت پر دو رکعتیں ہی رہنے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25967]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أسامة بن زيد الليثي
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أسامة بن زيد الليثي
حدیث نمبر: 25968 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي , فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری سہیلیاں آجاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں اور جوں ہی وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25968]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2130، م: 2440
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2130، م: 2440
حدیث نمبر: 25969 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتْ ابْنَةً لَهَا , فَاشْتَكَتْ , وَتَسَاقَطَ شَعَرُهَا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا فَأَصِلُ شَعْرَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْمُوصِلَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5205، م: 2123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5205، م: 2123
حدیث نمبر: 25970 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ النَّصْرِيُّ ، مُوسَى ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ النَّصْرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى , عن طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيُّ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25970]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن طلحة ابن عبيد الله لم يسمع من عائشة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن طلحة ابن عبيد الله لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25971 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ ، مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25971]
حکم دارالسلام
حسن لغيره وهو مكرر ما قبله
الحكم: حسن لغيره وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25972 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى السَّامِيُّ ، بُرْدٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى السَّامِيُّ , حَدَّثَنَا بُرْدٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي , فَمَشَى فِي الْقِبْلَةِ إِمَّا عَنْ يَمِينِهِ وَإِمَّا عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى فَتَحَ لِي , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ پر جا کر کھڑے ہوجاتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25972]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25973 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا" كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ , وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ , فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حلان کہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2046
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2046
حدیث نمبر: 25974 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، وَيَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَوَضَّأُ بِنَحْوِ الْمُدِّ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25974]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25975 مسند احمد
صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، مُعَاذَةَ ، يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ
قَالَ يَزِيدُ: بِقَدْرِ الْمُدِّ , قَالَ يَزِيدُ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , أَوْ مُعَاذَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , وَقَالَ: بِقَدْرِ الْمُدَّ، وَبِقَدْرِ الصَّاعِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25976 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَوَضَّأُ بِقَدْرِ الْمُدِّ أَوْ نَحْوِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25976]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25977 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ , حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَدَّانُ , فَقِيلَ لَهَا مَا يَحْمِلُكِ عَلَى الدَّيْنِ , وَلَكِ عَنْهُ مَنْدُوحَةٌ؟ قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يُدَانُ وَفِي نَفْسِهِ أَدَاؤُهُ , إِلَّا كَانَ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ" , فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25977]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة