بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 17 از 31
حدیث نمبر: 26118 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، كَثِيرٍ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26118]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26119 مسند احمد
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ الْأَيْلِيِّ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قال عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ الْأَيْلِيِّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ يُتَأَذَّى مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ چیز ناپسند تھی کہ ان سے ایسی مہک آئے جس سے دوسروں کو اذیت ہوتی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26119]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لأجل عمران بن أبى الفضل
الحكم: إسناده ضعيف جدا لأجل عمران بن أبى الفضل
حدیث نمبر: 26120 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , عَنْ أَبَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26121 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کیلئے تین دن سے سوگ منانا حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26121]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1491
الحكم: حديث صحيح، م: 1491
حدیث نمبر: 26122 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً , يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ , ثُمَّ يُوتِرُ , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ , وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26122]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 738
الحكم: إسناده صحيح، م: 738
حدیث نمبر: 26123 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ , فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ , وَكَانَ يَقُولُ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" , وَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ , كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782
حدیث نمبر: 26124 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ فَنُرْسِلُ بِهَا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يُحْرِمْ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بھیج کر بھی کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 26125 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ , عَنْ مُعَاذَةَ , قَالَتْ: سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ وَأَنَا شَاهِدَةٌ عَنْ وَصْلِ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ لَهَا: " أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ , وَكَانَ عَمَلُهُ نَافِلَةً لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک عورت نے ان سے نبی کے صوم وصال کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسے اعمال کرسکتی ہو، ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے تھے اور ان کے اعمال تو نفلی تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26125]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26126 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أُمُّ الْحَسَنِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَهِيَ جَدَّةُ أَبِي بَكْرٍ الْعَتَكِيِّ , عَنْ مُعَاذَةَ , قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ؟ فَقَالَتْ: " لَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا , لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا , وَقَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ , عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ , وَأَنَا حَائِضٌ نَائِمَةٌ قَرِيبًا مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حائضہ عورت کے متعلق پوچھا جس کے کپڑوں کو دم حیض لگ جائے، تو انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں تین مرتبہ مسلسل ایام آتے اور میں اپنے کپڑے نہ دھو پاتی تھی اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میرے جسم پر جو کپڑا ہوتا تھا، اس کا کچھ حصہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہوتا تھا اور میں ایام کی حالت میں ان کے قریب سو رہی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26126]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ام الحسن
الحكم: بعضه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ام الحسن
حدیث نمبر: 26127 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ دَايَنَ النَّاسَ بِدَيْنٍ يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ حَرِيصٌ عَلَى أَدَائِهِ , كَانَ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ وَحَافِظٌ" , وَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26127]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 26128 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أُمُّ نَهَارٍ بِنْتُ دِفَاعٍ ، آمِنَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ نَهَارٍ بِنْتُ دِفَاعٍ ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي آمِنَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهَا شَهِدَتْ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْقَاشِرَةَ وَالْمَقْشُورَةَ , وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ , وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُتَّصِلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرے کو مل دل کر صاف کرنے والی، جسم گودنے والی اور گودوانے والی، بال ملانے اور ملوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26128]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: "كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يلعن القاشرة والمقشورة" وهذا إسناد ضعيف لأجل آمنة بنت عبدالله
الحكم: حديث صحيح دون قولها: "كان رسول الله ﷺ يلعن القاشرة والمقشورة" وهذا إسناد ضعيف لأجل آمنة بنت عبدالله
حدیث نمبر: 26129 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ ، الْأَسْوَدُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ عَنِ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ , فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي الْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26129]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
حدیث نمبر: 26130 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي , أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , وَأَرْسَلَهَا عَمُّهَا , فَقَالَ: إِنَّ أَحَدَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ , وَيَسْأَلُكِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ شَتَمُوهُ؟ فَقَالَتْ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ , فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ , وَإِنَّ جِبْرِيلَ لَيُوحِي إِلَيْهِ الْقُرْآنَ , وَإِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ: " اكْتُبْ يَا عُثَيْمُ" , فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَهُ تِلْكَ الْمَنْزِلَةَ إِلَّا كَرِيمًا عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ انہیں ان کے چچا نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیونکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرنے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو ان پر لعنت کرے، اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو، واللہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے فرماتے تھے اے عثیم! لکھو اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26130]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة فاطمة بنت عبدالرحمن وأمها
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة فاطمة بنت عبدالرحمن وأمها
حدیث نمبر: 26131 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ , وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْإِنْسَانُ , وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی، سوائے فرض نمازوں کے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہوتا تھا جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26131]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26132 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى ، الْحَسَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَحَلَّ مِنْ قَتْلِ الدَّوَابِّ وَالرَّجُلُ مُحْرِمٌ أَنْ يَقْتُلَ الْحَيَّةَ , وَالْعَقْرَبَ , وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ , وَالْغُرَابَ الْأَبْقَعَ , وَالْحُدَيَّا , وَالْفَأْرَةَ , وَلَدَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ , فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا محرم ان چیزوں کو مار سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا، ایک مرتبہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی بچھو نے ڈس لیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26132]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: "ولدغ رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عقرب" وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحسن البصري وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح دون قولها: "ولدغ رسول الله ﷺ عقرب" وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحسن البصري وقد عنعن
حدیث نمبر: 26133 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ" فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ عَفَّانُ: فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّكَ تُكْثِرُ أَنْ تَقُولَ:" يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ" قَالَ:" وَمَا يُؤْمِنُنِي , وَإِنَّمَا قُلُوبُ الْعِبَادِ بَيْنَ أُصْبُعَيْ الرَّحْمَنِ , إِنَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُقَلِّبَ قَلْبَ عَبْدٍ قَلَّبَهُ"، قَالَ عَفَّانُ: بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں، جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے، اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26133]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 26134 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَعُقَّ عَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً , وَعَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری نیز یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بکری قربان کردیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26134]
حکم دارالسلام
حديث العقيقة صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حديث العقيقة صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 26135 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيُرَبِّي لِأَحَدِكُمْ التَّمْرَةَ وَاللُّقْمَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ , حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری ایک کجھور اور لقمہ کی اس پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26135]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه
حدیث نمبر: 26136 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، زَائِدَةُ ، أَبُو حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ بَعْضُهُ عَلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 514
الحكم: إسناده صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 26137 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْنَا: لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا , فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْنَا: لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا , فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْنَا: لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا , فَقَالَ: يَا عُمَرُ , صَلِّ بِالنَّاسِ , فَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ , فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ , ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً , فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ , فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ , فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا تَتَأَخَّرَ , وَأَمَرَهُمَا , فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ , فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا , فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , فَقُلْتُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ هَاتِ , فَحَدَّثْتُهُ , فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ قُلْتُ لَا , قَالَ هُوَ عَلِيٌّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے کچھ بتائیں گی؟ فرمایا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت جب بوجھل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟ ہم نے کہا نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے ایک ٹب میں پانی رکھو، ہم نے ایسے ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل کیا اور جانے کے لئے کھڑے ہونے ہی لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، جب افاقہ ہوا تو پھر یہی سوال پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟ ہم نے حسب سابق وہی جواب دیا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب آدمی تھے، کہنے لگے اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، انہوں نے کہا اس کے حقدار تو آپ ہی ہیں، چنانچہ ان دنوں میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز کے وقت دو آدمیوں کے درمیان نکلے جن میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے ساتھ آنے والے دونوں صاحبوں کو حکم دیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سماعت کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں آیا ہوا تھا، میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سنائی ہے؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کرو، چنانچہ میں نے ان سے ساری حدیث بیان کردی، انہوں نے اس کے کسی حصے پر نکیر نہیں فرمائی، البتہ اتنا ضرور پوچھا کہ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 687، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 687، م: 418