بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 29 از 31
حدیث نمبر: 26358 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ,، كلاهما، حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ , سِتٌّ مِنْهُنَّ مَثْنَى مَثْنَى , وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے چھ رکعتیں دو دو کر کے ہوتی تھیں اور پانچوں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26358]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 737
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 737
حدیث نمبر: 26359 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنمَا هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ فَارِعِ أُجُمِ حَسَّانَ , جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ , قَالَتْ: وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ" فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ , فَأَتَى رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَيْهِ غِرَارَةٌ فِيهَا تَمْرٌ , قَالَ: هَذِهِ صَدَقَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟" فَقَالَ: هَا هُوَ ذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ" قَالَ: وَأَيْنَ الصَّدَقَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا عَلَيَّ وَلِي , فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ أَنَا وَعِيَالِي شَيْئًا , قَالَ:" فَخُذْهَا" فَأَخَذَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " ام حسان " کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں جل گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا، اسی ثناء میں میں ایک آدمی گدھے پر سوار ہو کر آیا، اس کے پاس کجھوروں کا ایک ٹو کرا تھا، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ میرا صدقہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے؟ وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہاں موجود ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کردو، اس نے کہا یا رسول اللہ! میرے علاوہ اور کس پر صدقہ ہوسکتا ہے؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ نہیں پاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم ہی یہ لے جاؤ، چنانچہ اس نے وہ لے لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26359]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1935، م: 1112
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1935، م: 1112
حدیث نمبر: 26360 مسند احمد
سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الْكَلَاعِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَكِّيِّ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ابْنَةِ عُثْمَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الْكَلَاعِيُّ , وَكَانَ ثِقَةً , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَكِّيِّ , قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ , فَبَعَثَنِي إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ابْنَةِ عُثْمَانَ صَاحِبِ الْكَعْبَةِ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعَتْهَا مِنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے عدی بن عدی کندی کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے مجھے خانہ کعبہ کے کلید بردار شیبہ بن عثمان کی صاحبزادی صفیہ کے پاس کچھ چیزیں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی تھیں، تو صفیہ رضی اللہ عنہ نے مجھے جو حدیثیں سنائیں، ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا ہے زبر دستی مجبور کرنے پر دی جانے والی طلاق یا آزادی واقع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26360]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيد بن أبى صالح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيد بن أبى صالح
حدیث نمبر: 26361 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ , فَطُرِحُوا فِيهِ , إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ , فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا , فَذَهَبُوا يُحَرِّكُوهُ , فَتَزَايَلَ , فَأَقَرُّوهُ وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ , فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ , وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ , هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا؟" قال: فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى؟! قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ:" لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقٌّ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: لَقَدْ سَمِعُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ عَلِمُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے مقتولین قریش کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ایک گڑھے میں پھینک دیا جائے، چنانچہ انہیں پھینک دیا گیا، سوائے امیہ بن خلف کے کہ اس کا جسم اپنی زرہ میں پھول گیا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسے ہلانا چاہا لیکن مشکل پیش آئی تو اسے وہیں رہنے دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال کر اسے چھپا دیا اور گڑھے میں باقی سب کو پھینکنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل قلیب! تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچا پایا؟ کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ مردوں سے بات کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا واللہ یہ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے سچا وعدہ کیا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ جانتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ نہیں سنتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26361]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لأجل ابن إسحاق
الحكم: إسناده حسن لأجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26362 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ عَبَّادٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ , بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَالٍ , وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ لِخَدِيجَةَ , أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا , قَالَتْ: فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً , وَقَالَ: " إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا , وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا , فَافْعَلُوا" , فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَطْلَقُوهُ , وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کے لئے مال بھیجا، جس میں وہ ہار بھی شامل تھا، جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی ابوالعاص سے شادی کے موقع پر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اس ہار کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر شدید رقت طاری ہوگئی اور فرمایا اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی چھوڑ دو اور اس کا بھیجا ہوا مال اسے واپس لوٹا دو، لوگوں نے عرض کیا ٹھیک ہے، یا رسول اللہ! چنانچہ انہوں نے ابوالعاص کو چھوڑ دیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا ہار بھی واپس لوٹا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26362]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل أبن إسحاق
الحكم: إسناده حسن من أجل أبن إسحاق
حدیث نمبر: 26363 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: لَمَّا أَتَى قَتْلُ جَعْفَرٍ , عَرَفْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ , قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النِّسَاءَ قَدْ غَلَبْنَنَا وَفَتَنَّنَا , قَالَ: " فَارْجِعْ إِلَيْهِنَّ فَأَسْكِتْهُنَّ" , قَالَ: فَذَهَبَ , ثُمَّ رَجَعَ , فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ , قَالَ: يَقُولُ: وَرُبَّمَا ضَرَّ التَّكَلُّفُ أَهْلَهُ , قَالَ:" فَاذْهَبْ فَأَسْكِتْهُنَّ , فَإِنْ أَبْيَنَ , فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ" , قَالَتْ: قُلْتُ فِي نَفْسِي: أَبْعَدَكَ اللَّهُ , فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ نَفْسَكَ , وَمَا أَنْتَ بِمُطِيعٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: عَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ اور عبدالرحمن بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہویدا تھے، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کردو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور کہنے لگا میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے، واللہ تو وہ کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تجھے حکم دیتے اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن إسحاق، خ: 1299، م: 935
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن إسحاق، خ: 1299، م: 935
حدیث نمبر: 26364 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: " لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً , قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي , تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ , إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ؟ قَالَتْ: أَنَا وَاللَّهِ , قَالَتْ: قُلْتُ: وَيْلَكِ , وَمَا لَكِ؟ قَالَتْ: أُقْتَلُ , قَالَتْ: قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَتْ: حَدَثًا أَحْدَثْتُهُ , قَالَتْ: فَانْطُلِقَ بِهَا , فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا , وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا , وَكَثْرَةِ ضَحِكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی صرف ایک عورت کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا، وہ بھی میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی، جبکہ باہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی قوم کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے اس کا نام لے کر کہا کہ فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ کہنے لگا واللہ! یہ تو میں ہوں، میں نے اس سے کہا افسوس! یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگی کہ مجھے قتل کردیا جائے گا، میں نے اس سے پوچھا وہ کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک حرکت ایسی کی ہے، چنانچہ اسے لیجا کر اس کی گردن اڑا دی گئی، واللہ میں اپنے تعجب کو کبھی بھلا نہیں سکتی کہ وہ کتی ہشاش بشاش تھی اور ہنس رہی تھی جبکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26364]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
الحكم: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26365 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ , وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشِمَاسٍ , أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ , وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا , وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ , فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا , قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا , وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ , فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ , وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ , فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ , أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ , فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي , فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي , قَالَ: " فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ" قَالَتْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قَدْ فَعَلْتُ" , قَالَتْ: وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ , فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ , قَالَتْ: فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ , فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویریہ بنت حارث، ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آگئیں، حضرت جویریہ نے ان کے مکاتبت کرلی، وہ بڑی حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا تھا، اس کی نظر ان پر جم جاتی تھی، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، واللہ جب میں نے انہیں اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو مجھے طبیعت پر بوچھ محسوس ہوا اور میں سمجھ گئی کہ میں نے ان کا حسن و جمال دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس پر ضرور توجہ فرمائیں گے، چنانچہ وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! میں جویریہ بنت حارث ہوں، جو اپنی قوم کا سردار تھا، میرے اوپر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے، میں ثابت بن قیس یا اس کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں، میں نے اس سے اپنے حوالے سے مکاتبت کرلی ہے اور اب آپ کے پاس کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر آئی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! وہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا بدل کتابت کر کے میں تم سے نکاح کرلوں، انہوں نے حامی بھر لی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی طرح کیا، ادھر لوگوں میں خبر پھیل گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جویریہ سے شادی کرلی ہے، لوگ کہنے لگے کہ یہ سسرال والے بن گئے، چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے غلام آزاد کردیئے، یوں اس شادی کی برکت سے بنی مصطلق کے سو گھرانوں کو آزادی نصیب ہوگئی، اپنی قوم کے لئے اس سے عظیم برکت والی عورت میرے علم میں نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26365]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه
الحكم: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 26366 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، أَفْلَتَ بْنِ خَلِيفَةَ ، جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , عَنْ أَفْلَتَ بْنِ خَلِيفَةَ , قَالَ أَبِي: سُفْيَانُ يَقُولُ: فُلَيْتٌ عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: بَعَثَتْ صَفِيَّةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ وَهُوَ عِنْدِي , فَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَارِيَةَ , أَخَذَتْنِي رِعْدَةٌ حَتَّى اسْتَقَلَّنِي أَفْكَلُ , فَضَرَبْتُ الْقَصْعَةَ , فَرَمَيْتُ بِهَا , قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ , فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ , قَالَتْ: قَالَ: " أَوْلَى" , قَالَتْ: قُلْتُ: وَمَا كَفَّارَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" طَعَامٌ كَطَعَامِهَا , وَإِنَاءٌ كَإِنَائِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے روئے انور پر غصے کے آثار نظر آئے، میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ وہ آج مجھ پر لعنت کریں پھر میں نے عرض کے یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26366]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26367 مسند احمد
الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مُذْ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ طَعَامٍ حَتَّى تُوُفِّيَ" , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى تُوُفِّيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی تین دن تک مسلسل پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5416، م: 2970
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5416، م: 2970
حدیث نمبر: 26368 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , قُلْتُ: أَخْبِرِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ لَعَلِّي أَدْعُو اللَّهَ بِهِ , فَيَنْفَعَنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2716
الحكم: إسناده صحيح، م: 2716
حدیث نمبر: 26369 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ , قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ , شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کسی مریض کو لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5743، م: 2191
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5743، م: 2191
حدیث نمبر: 26370 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ , كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ , وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا اكْتَسَبَ , وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ , لَا يَنْقُصُ أَجْرُهُمْ مِنْ أَجْرِ بَعْضٍ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1425، م: 1024
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1425، م: 1024
حدیث نمبر: 26371 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ ، مَنْصُورٌ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26371]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2716
الحكم: حديث صحيح، م: 2716
حدیث نمبر: 26372 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورٌ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ جُنُبًا لَمْ يَصُمْ , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ: " إِنَّهُ لَا يَقُولُ شَيْئًا , قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا , ثُمَّ يَقُومُ فَيَغْتَسِلُ , فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ , فَيَخْرُجُ , فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالْمَاءُ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ , ثُمَّ يَظَلُّ يَوْمَهُ ذَلِكَ صَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا ان کی بات کی کوئی اصلیت نہیں، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے، پھر بلال آکر نماز کی اطلاع دیتے، وہ باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھا دیتے اور پانی ان کے جسم پر ٹپک رہا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26372]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26373 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَنْهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ , قَالَ: قُلْتُ: فَالسُّعُن؟ قَالَتْ:" إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ , وَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا لَمْ أَسْمَعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے " سفن " کے متعلق پوچھا تو فرمایا جو سنا وہ بیان کردیا اور جو نہیں سنا، وہ بیان نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26373]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لاجل زياد بن عبدالله
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لاجل زياد بن عبدالله
حدیث نمبر: 26374 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ , قَالَتْ: " لَا , وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جو طاقت تھی، وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26374]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل زياد بن عبدالله، خ: 6466، م: 783
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل زياد بن عبدالله، خ: 6466، م: 783
حدیث نمبر: 26375 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورٌ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ فِي الْخَمْرِ , قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ , ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں اس کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26375]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل زياد بن عبدالله فى الروايات الصحيحة "فى الربا" مكان "فى الخمر"
الحكم: إسناده ضعيف لأجل زياد بن عبدالله فى الروايات الصحيحة "فى الربا" مكان "فى الخمر"
حدیث نمبر: 26376 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، زَكَرِيَّا ، خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْبَهِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر وقت اللہ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26376]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 373
الحكم: حديث صحيح، م: 373
حدیث نمبر: 26377 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، مَنْصُورٍ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26377]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2572
الحكم: حديث صحيح، م: 2572