بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 18 از 31
حدیث نمبر: 26138 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقُلْتُ لَهَا: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى , ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَقَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَأَخَّرَ , قَالَ مُعَاوِيَةُ يتَأَخَّرْ , وَقَالَ لَهُمَا:" أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ" فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ , قَالَتْ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ , وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر سابقه
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 26139 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ؟ فَأَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ , فَجَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ , فَلَيْسَ مِنْ رَجُلٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ , فَيَمْكُثُ فِي بَيْتِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ , إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے " طاعون " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنادیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3474
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3474
حدیث نمبر: 26140 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَد ، الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَتَادَةُ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَد , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَةٍ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ , ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ , يُخَلِّلُ بِأَصَابِعِهِ أُصُولَ الشَّعْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے پہلے نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے اور تین مرتبہ پانی بہاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26140]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمع من عروة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمع من عروة
حدیث نمبر: 26141 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ , أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6791، م: 1685
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6791، م: 1685
حدیث نمبر: 26142 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى ، عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ، عَائِشَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ , أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ , أَخْبَرَتْهُ , وَأَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَدَعُ فِي بَيْتِهِ ثَوْبًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ" , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَدْ كَانَ خَالَطَ ثِيَابَنَا الْحَرِيرُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کردیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26142]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5952
الحكم: حديث صحيح، خ: 5952
حدیث نمبر: 26143 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ , فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا , فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ , اجْتَنِبْ الْأَرْضَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ , طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا اے ابو سلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2453، م: 1612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2453، م: 1612
حدیث نمبر: 26144 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ الْحَنَفِيَّ ، أَبَا سَعِيدٍ الرَّقَاشِيَّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ الْحَنَفِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الرَّقَاشِيَّ , يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جَرَّةً مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ , فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَكْرَهُ مَا يُصْنَعُ فِي هَذِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سعید رقاشی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پردہ کے پیچھے سے مجھے ایک مٹکا دکھایا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس جیسے مٹکے بنانے سے منع فرماتے تھے اور اسے ناپسند کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26144]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد
حدیث نمبر: 26145 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26145]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1928، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 26146 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ , فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ , اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا , فَإِنَّ هَذَا الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا عائشہ! اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26146]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26147 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ ، خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي الرِّجَالِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي الرِّجَالِ , عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ فِي بِئْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26147]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خارجة بن عبدالله توبع
الحكم: حديث صحيح، خارجة بن عبدالله توبع
حدیث نمبر: 26148 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ زُهَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَدْعُو لَهُمْ , فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَدْعُوَ لَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع اور وہاں مدفون مسلمانوں کے لئے دعا فرماتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے ان کیلئے دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26148]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن أبا بكر لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن أبا بكر لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 26149 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26149]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 436، م: 531
الحكم: حديث صحيح، خ: 436، م: 531
حدیث نمبر: 26150 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، الْقَوَارِيرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَشْعَثَ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ , وقال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَشْعَثَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: فَحَدَّثَنِيهِ أَبِي , فَقَالَ: أَسْمَعْهُ مِنْ يَحْيَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرما لیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26150]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26151 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، أَبِي قَزَعَةَ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ , عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , يَقُولُ: سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَيْتَ" قَالَ أَبِي: قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ , فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَاءِ , فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا , فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ , لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو قزعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، دوران طواف وہ کہنے لگا کہ ابن زبیر پر اللہ کی مار ہو، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کر کے کہتا ہے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو شہید کر کے حطیم کا حصہ بھی اس میں شامل کردیتا کیونکہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت میں سے اسے چھوڑ دیا تھا، اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ حدیث تو میں نے بھی ام المومنین سے سنی ہے، تو عبدالملک نے کہا کہ اگر میں نے اسے شہید کرنے سے پہلے یہ حدیث سنی ہوتی تو میں اسے ابن زبیر کی تعمیر پر برقرار رہنے دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1333
الحكم: إسناده صحيح، م: 1333
حدیث نمبر: 26152 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ ، عَطَاءٌ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ , إِلَّا رَكَعَ عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عصر کی نماز کے بعد جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے تو وہاں دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26152]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 591، م: 835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 591، م: 835
حدیث نمبر: 26153 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَلَيْسَ ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ؟" , فَقَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے تو غسل کر کے روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26153]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26154 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ , ، إِسْرَائِيلُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ , فَلَمَّا طَافَ بِالْبَيْتِ , وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَطَافُوا , أَمَرَهُمْ فَحَلُّوا , قَالَتْ: وَكُنْتُ قَدْ حِضْتُ , فَوَقَفْتُ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ , فَقُلْتُ: يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ؟ قَالَتْ: فَأَرْسَلَ مَعِي أَخِي , فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کو ازواج مطہرات اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی طواف و سعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ نہیں تھا۔ میں ایام سے تھی، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کے یا رسول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26154]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 26155 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إسْرَائِيلُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَمْكُثُ , قَالَتْ: وَكَانَ يُهْدِي الْغَنَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 26156 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1146
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1146
حدیث نمبر: 26157 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَسَنٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26157]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه
الحكم: حديث حسن بطرقه