بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 3 از 31
حدیث نمبر: 25838 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفٍ حِضْتُ , فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟" قُلْتُ: حِضْتُ , لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ , قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ , إِنَّمَا ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا , غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ" , قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً , فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ" , قَالَتْ: وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ , فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ , فَقَالَتْ: قُلْت: ُيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ , وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ؟ , فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ , فَذَهَبَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ , فَلَبَّيْتُ بِعُمْرَةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25838]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1516، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1516، م: 1211
حدیث نمبر: 25839 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال َ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25839]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5954، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5954، م: 2107
حدیث نمبر: 25840 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُطَرِّفٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا " جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ , فَلَبِسَهَا , فَلَمَّا عَرِقَ , فَوَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ , فَقَذَفَهَا , قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَكَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ آیا اور اون کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25841 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَال: َحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ , قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ , فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا , فَأَلْقَتْ لَنَا وَسَادَةً وَجَذَبَتْ إِلَيْهَا الْحِجَابَ , فَقَالَ صَاحِبِي: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي الْعِرَاكِ، قَالَتْ: وَمَا الْعِرَاكُ؟ وَضَرَبْتُ مَنْكِبَ صَاحِبِي , فَقَالَت: مَهْ آذَيْتَ أَخَاكَ , ثُمّ قَالَتْ: مَا الْعِرَاكُ؟ الْمَحِيضُ؟ قُولُوا: مَا قَالَ اللَّهُ الْمَحِيضُ , ثُمّ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي , وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ وَأَنَا حَائِضٌ" . ثُمَّ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِبَابِي مِمَّا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا , فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ , فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا , ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , قُلْتُ: يَا جَارِيَةُ ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ , وَعَصَبْتُ رَأْسِي , فَمَرَّ بِي , فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا شَأْنُكِ" , فَقُلْتُ: أَشْتَكِي رَأْسِي , فَقَالَ:" أَنَا وَا رَأْسَاهْ" , فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ , فَدَخَلَ عَلَيَّ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ , فَقَالَ:" إِنِّي قَدْ اشْتَكَيْتُ , وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ , فَائْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ , أَوْ صَفِيَّةَ , وَلَمْ أُمَرِّضْ أَحَدًا قَبْلَهُ , فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبَيَّ إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً , فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ , فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي , فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ , فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا , فَجَاءَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ , فَاسْتَأْذَنَا , فَأَذِنْتُ لَهُمَا , وَجَذَبْتُ إِلَيَّ الْحِجَابَ , فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ , فَقَالَ: وَاغَشْيَاهْ , مَا أَشَدُّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَامَا , فَلَمَّا دَنَوَا مِنَ الْبَابِ , قَالَ الْمُغِيرَةُ: يَا عُمَرُ , مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: كَذَبْتَ , بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ , ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ , فَرَفَعْتُ الْحِجَابَ , فَنَظَرَ إِلَيْهِ , فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ , مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ , فَحَدَرَ فَاهُ , وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ , ثُمَّ قَالَ: وَانَبِيَّاهْ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ , وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ , ثُمَّ قَالَ: وَاصَفِيَّاهْ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , وَحَدَرَ فَاهُ , وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ , وَقَالَ: وَاخَلِيلَاهْ , مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ , وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ , حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ , فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ سورة الزمر آية 30 , حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ سورة آل عمران آية 144 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ , فَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ , وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا , فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ , فَقَالَ عُمَرُ: وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ؟ مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ , ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , هَذَا أَبُو بَكْرٍ , وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ , فَبَايَعُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن بابنوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ساتھی کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اجازت طلب کی، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھا اور خود اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، پھر میرے ساتھی نے پوچھا کہ اے ام المومنین! " عراک " کے متعلق آپ کیا فرماتی ہیں! انہوں نے فرمایا عراک کیا ہوتا ہے؟ میں نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مارا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روکتے ہوئے فرمایا تم نے اپنے بھائی کو ایذا پہنچائی، پھر فرمایا عراک سے کیا مراد ہے؟ حیض، تو سیدھا سیدھا وہ لفظ بولو جو اللہ نے استعمال کیا ہے، یعنی حیض، بعض اوقات میں حائضہ ہوتی تھی لیکن پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کو بوسہ دے دیا کرتے تھے اور میرے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان پردہ حائل ہوتا تھا۔ پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب میرے گھر کے دروازے سے گزرتے تھے تو کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے تھے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچا دیتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے گزرے تو کچھ نہیں کہا، دو تین مرتبہ جب اسی طرح ہوا تو میں نے اپنی باندی سے کہا کہ میرے لئے دروازے پر تکیہ لگا دو اور میں اپنے سر پر پٹی باندھ کر وہاں بیٹھ گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا عائشہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا میرے سر میں درد ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بھی سر میں درد ہو رہا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے گئے، تھوڑی دیر گزری تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوگ چادر میں لپیٹ کر اٹھائے چلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں رہے اور دیگر ازواج کے پاس یہ پیغام بھجوا دیا کہ میں بیمار ہوں اور تم میں سے ہر ایک کے پاس باری باری آنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے اس لئے تم اگر مجھے اجازت دے دو تو میں عائشہ کے یہاں رک جاؤں؟ ان سب نے اجازت دے دی اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تیمارداری کرنے لگی حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی کی تیماداری نہیں کی تھی۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میرے کندھے پر رکھا ہوا تھا کہ اچانک سر مبارک میرے سر کی جانب ڈھک گیا میں سمجھی کہ شاید آپ میرے سر کو بوسہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ سے لعاب کا ایک قطرہ نکلا اور میرے سینے پر آٹپکا، میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں سمجھی کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی ہے چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک چادر اوڑھا دی، اسی دوران حضرت عمر اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے اجازت طلب کی، میں نے انہیں اجازت دے دی اور اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کہا ہائے غشی! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غشی کی شدت کتنی ہے، تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کھڑے ہوئے جب وہ دونوں دروازے کے قریب پہنچے تو مغیرہ بن شعبہ کہنے لگے اے عمر! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ تم فتنہ پرور آدمی ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کی ختم نہ کر دے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، میں نے حجاب اٹھا دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دیکھ کر " اناللہ وانا الیہ راجعون " پڑھا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔ پھر سرہانے کی جانب سے آئے اور منہ مبارک پر جھک کر پیشانی کو بوسہ دیا اور کہنے لگے ہائے میرے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! تین مرتبہ اسی طرح کیا اور دوسری مرتبہ ہائے میرے دوست اور تیسری مرتبہ ہائے میرے خلیل کہا، پھر مسجد کی طرف نکلے، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے تقریر اور گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو ختم نہ فرما دے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " آپ بھی دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں "۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ " محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بھی بہت رسول گذر چکے ہیں، کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو تم ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے "۔۔۔۔۔ سو جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں، مذکورہ آیات سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا یہ آیات کتاب اللہ میں موجود ہیں؟ میرا شعور ہی اس طرف نہیں جاسکا کہ یہ آیت بھی کتاب اللہ میں ہی موجود ہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو! یہ ابوبکر ہیں اور مسلمانوں کے بزرگ ہیں اس لئے ان کی بیعت کرلو، چنانچہ لوگوں نے ان کی بیعت کر لی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25841]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25842 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، كَثِيرٍ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ , عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ صدیقہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25842]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25843 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: أَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى , اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ , قَالَ: فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ , وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوبصورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و آل محمد کر طرف سے قربان کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25843]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف لاضطراب عبدالله بن محمد بن عقيل فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف لاضطراب عبدالله بن محمد بن عقيل فيه
حدیث نمبر: 25844 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَيْءٍ أَسْرَعُ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی چیز کی طرف اور کسی غنیمت کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25844]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حكيم بن جبير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حكيم بن جبير
حدیث نمبر: 25845 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ , وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25845]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 25846 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، الْأَعْمَشِ , ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَارَةَ ، عَمَّتِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ عَمَّتِهِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة ولضعف شريك
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة ولضعف شريك
حدیث نمبر: 25847 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، شَرِيكٌ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25847]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، م: 1106
حدیث نمبر: 25848 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، شَرِيكٍ ، إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ ، الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ ، أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ ، السُّدِّيِّ ، زِيَادٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ , عَنِ الْبَهِيِّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" . وقَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ أَسْوَدُ: وَقَالَ مَرَّة: السُّدِّيُّ , أَوْ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ , وَذَاكَ أَنَّ ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ لَهُ فِي الْبَيْتِ: إِنَّهُمْ يَذْكُرُونَهُ عَنْكَ عَنِ السُّدِّيِّ , فَقَالَ السُّدِّيِّ , أَوْ زِيَادٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25848]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، م: 1106
حدیث نمبر: 25849 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، السَّائِبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ السَّائِبِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25849]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل إبراهيم بن مهاجر وشريك هما ضعيفان
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل إبراهيم بن مهاجر وشريك هما ضعيفان
حدیث نمبر: 25850 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، السَّائِبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ السَّائِبِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25850]
حکم دارالسلام
حديث صحيحح لغيره، وإسناده كسابقه ضعيف
الحكم: حديث صحيحح لغيره، وإسناده كسابقه ضعيف
حدیث نمبر: 25851 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، وَلَيْثٌ ، مُجَاهِدٍ ، السَّائِبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْثٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ السَّائِبِ , عَنْ عَائِشَةَ رَفَعَتْهُ , قَالَتْ: قَالَ: " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ غَيْرَ مُتَرَبِّعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25851]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره دون قوله: غير متربع فقد تفرد به شريك
الحكم: حديث صحيح لغيره دون قوله: غير متربع فقد تفرد به شريك
حدیث نمبر: 25852 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ، سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ , يُخْبِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا , فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ , أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ: ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ" , فَنَزَلَتْ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا سورة التحريم آية 4 لِعَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ سورة التحريم آية 3 لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات زینب بنت جحش کے پاس رک کر ان کے یہاں شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے یہ معاہدہ کرلیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئیں، وہ یہ کہہ دے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس جب گئے تو اس نے یہ بات کہہ دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور آئندہ کبھی نہیں پیوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنے اوپر ان چیزوں کو کیوں حرام کرتے ہیں جنہیں اللہ نے حلال قرار دے رکھا ہے۔۔۔۔۔ " اگر تم دونوں (عائشہ اور حفصہ) توبہ کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25852]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5267، م: 1474
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5267، م: 1474
حدیث نمبر: 25853 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ , ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25853]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 25854 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، أَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ نَامَ وَهُوَ جُنُبٌ حَتَّى أَصْبَحَ , ثُمَّ اغْتَسَلَ وَصَامَ يَوْمَه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25854]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
حدیث نمبر: 25855 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ , أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي؟ , فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ , قال: قَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى , قَالَ: قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي , انْقَلَبَ , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ , وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ , فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ , وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ , فَاضْطَجَعَ , فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ , فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا , وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا , وَفَتَحَ الْبَابَ , فَخَرَجَ , ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا , فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي , وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي , ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى أَثَرِهِ , حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ , فَقَامَ , فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ انْحَرَفَ , فَأَسْرَعَ , فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ , فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ , فَسَبَقْتُهُ , فَدَخَلْتُ , فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ , فَدَخَلَ , فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَاءَ رَائِبَةً" قَالَتْ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" لَتُخْبِرِنَّنِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , فَأَخْبَرَتْهُ , قَالَ:" فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي؟" قُلْتُ: نَعَمْ فَلَهَزَنِي فِي ظَهْرِي لَهْزَةً فَأَوْجَعَتْنِي , وَقَالَ:" أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ عَلَيْكِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟" قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ , قَالَ:" نَعَمْ , فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ , فَنَادَانِي , فَأَخْفَاهُ مِنْكِ , فَأَجَبْتُهُ , فأخُفْيَتَهُ مِنْكِ , وَلَمْ يَكُنْ لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ , وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ , فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ , وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي , فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ عزَّ وجلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ , فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ" , قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ , وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ , وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن کہا: کیا میں آپ کو اپنی اور اپنی ماں کے ساتھ بیتی ہوئی بات نہ سناؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر ٹھہرے کہ آپ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آہستہ سے جوتا پہنا اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو اہستہ سے بند کردیا۔ میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بقیع میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہونے کو طویل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا۔ پھر واپس لوٹے اور میں بھی لوٹی آپ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی۔ آپ دوڑے تو میں بھی دوڑی۔ آپ پہنچے تو میں بھی پہنچی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے۔ میں نے کہا کچھ نہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے باریک بین خبردار یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ کو دے دی۔ فرمایا میں اپنے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تو تھی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سینہ پر (از راہ محبت) مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی پھر فرمایا تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا۔ فرماتی ہیں جب لوگ کوئی چیز چھپاتے ہیں تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تو نے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس لئے نہیں آئے کہ تو نے اپنے کپڑے اتار دیئے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تو سو چکی ہے اور میں نے تجھے بیدار کرنا پسند نہ کیا میں نے یہ بھی خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لئے مغفرت مانگیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو: " اللہ ہم سے جانے والوں پر رحمت فرمائے اور پیچھے جانے والوں پر، ہم ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25855]
حکم دارالسلام
المرفوع منه فى السلام على أهل البقيع صحيح، وهذا إسناد ضعيف، م: 974
الحكم: المرفوع منه فى السلام على أهل البقيع صحيح، وهذا إسناد ضعيف، م: 974
حدیث نمبر: 25856 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , اشْتَكَى أَصْحَابُهُ , وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ , فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةُ فِي عِيَادَتِهِمْ , فَأَذِنَ لَهَا , فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ , وَسَأَلْتُ عَامِرًا , فَقَالَ: إني وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ , وَسَأَلْتُ بِلَالًا , فَقَالَ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ , فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ , وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا , وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةٍ" , وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے "۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں بلال سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فح " میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اس طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25856]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر ابن إسحاق بن يسار
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر ابن إسحاق بن يسار
حدیث نمبر: 25857 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً , تِسْعًا قَائِمًا , وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ , فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25857]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن جعفر بن ربيعة لم يسمع من أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن جعفر بن ربيعة لم يسمع من أبى سلمة