بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 21 از 31
حدیث نمبر: 26198 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ , وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ , فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ , وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي , يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا , فَيُكَلِّمُنِي , فَأَعِي مَا يَقُولُ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ , فَيَفْصِمُ عَنْهُ , وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغام الٰہی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26198]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2
حدیث نمبر: 26199 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ , عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ , فَارْفُقْ بِهِ , وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ , فَشُقَّ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1828
الحكم: إسناده صحيح، م: 1828
حدیث نمبر: 26200 مسند احمد
عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عامر ابن صالح وهو متروك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عامر ابن صالح وهو متروك
حدیث نمبر: 26201 مسند احمد
أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَفْلَحُ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاقَعَ أَهْلَهُ , ثُمَّ أَصْبَحَ فَاغْتَسَلَ , وَصَلَّى وَصَامَ يَوْمَهُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26201]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
حدیث نمبر: 26202 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ثَقُلَ وَبَدَّنَ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر بیٹھ کر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 732
الحكم: إسناده صحيح، م: 732
حدیث نمبر: 26203 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، الضَّحَّاكُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَكَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ , فَيَقُولُ: فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقْرَأْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اور وہ جواب دے کہ اللہ نے، پھر وہ یہ سوال کرے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے تو ایسی صورت میں اسے یوں کہنا چاہیے " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " اس سے وہ دور ہوجائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26203]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث أبى هريرة، م: 134
الحكم: صحيح من حديث أبى هريرة، م: 134
حدیث نمبر: 26204 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبَا نُبَيْهٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26204]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى نبيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى نبيه
حدیث نمبر: 26205 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي بِبَعْضِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعاء کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26205]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 26206 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، أُمِّي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي , قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ الْوَاشِمَةِ , وَالْوَاصِلَةِ وَالْمُتَوَاصِلَةِ , وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرے کو مل دل کرنے صاف کرنے، جسم گودنے اور گودوانے، بال ملانے اور ملوانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26206]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة والدة أبان، والنهي عن الأمور الواردة ثابت بالأحاديث الصحيحة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة والدة أبان، والنهي عن الأمور الواردة ثابت بالأحاديث الصحيحة
حدیث نمبر: 26207 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ , أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت انصار کے دو گھروں کے درمیان یا اپنے والدین کے یہاں مہمان بنے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26207]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26208 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مِرَارًا , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ شَوْكَةٍ , فَمَا فَوْقَهَا , فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 26209 مسند احمد
رَوْحٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا , يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ , يَحْفَظُهُ مَنْ سَمِعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو، وہ اس طرح واضح گفتگو فرماتے تھے کہ اسے ہر سننے والا محفوظ کرلیتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26209]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
الحكم: إسناده حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
حدیث نمبر: 26210 مسند احمد
عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا , فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ , وَقَالَ: " لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھیں، اس دوران انہوں نے اپنے اونٹ پر لعنت بھیجی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس بھیج دینے کا حکم دیا اور فرمایا میرے ساتھ کوئی ملعون چیز نہیں جانی چاہیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26210]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 26211 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، قُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ , عَنْ قُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ , فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: " إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26211]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قريبة وعاصم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قريبة وعاصم
حدیث نمبر: 26212 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , فَذَكَرَ قِصَّةً , فَقَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي فَرَفَقَ بِهِمْ , فَارْفُقْ بِهِ , وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ , فَاشْقُقْ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1828
الحكم: إسناده صحيح، م: 1828
حدیث نمبر: 26213 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26213]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
الحكم: حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 26214 مسند احمد
هَاشِمٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ ، سَالِمٍ سَبَلَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ , عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ , فَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي لَهَا , فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَسَاءَ الْوُضُوءَ , فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , أَسْبِغْ الْوُضُوءَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26214]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول ولكن تابعه يحيى بن أبى كثير
الحكم: حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول ولكن تابعه يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 26215 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْأَشْجَعِيُّ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ , مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: " قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26215]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 26216 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ , قَالَتْ:" قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینے کا حکم پوچھا، تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 26217 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، لَيْثٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26217]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك