يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ , مِنْ نَخْلٍ قَالَتْ: فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صِدْعَيْنِ , فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ , وَقَامَتْ طَائِفَةٌ تُجَاهَ الْعَدُوِّ , قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَبَّرَتْ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ , ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا , ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا , ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ , فَرَفَعُوا مَعَهُ , ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ , ثُمَّ قَامُوا , فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ , قَالَتْ: فَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى , فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا , ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ , فَسَجَدُوا مَعَهُ , ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ , وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ , ثُمَّ قَامَتْ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا , فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ , فَسَجَدُوا جَمِيعًا , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا مَعَهُ , كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ , ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَلَّمُوا , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ ذات کے موقع پر لوگوں کو نماز خوف پڑھائی اور وہ اس طرح کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، ایک گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہی اور جو لوگ پیچھے کھڑے تھے انہوں نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ دیر رکے رہے اور مقتدیوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کرلیا اور کھڑے ہو کر ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پہلے گروہ کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور اس گروہ نے آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بنالی، تکبیر کہی اور خود ہی رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسرا سجدہ کہا تو انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا۔ اس کے بعد دونوں گروہ اکٹھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ساتھ لے کر رکوع کیا، پھر سب نے اکٹھا سجدہ کیا اور اکٹھے سر اٹھایا اور ان میں سے ہر رکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیزی کے ساتھ ادا کیا اور حتی الامکان اسے مختصر کرنے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے، اس طرح تمام لوگ مکمل نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26354]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، ابن إسحاق مدلس ولكن صرح بالتحديث
الحكم: إسناده حسن، ابن إسحاق مدلس ولكن صرح بالتحديث