بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 28 از 31
حدیث نمبر: 26338 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قَالَتْ: " كَانَ أَوَّلَ مَا افْتُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ , إِلَّا الْمَغْرِبَ , فَإِنَّهَا كَانَتْ ثَلَاثًا , ثُمَّ أَتَمَّ اللَّهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا فِي الْحَضَرِ , وَأَقَرَّ الصَّلَاةَ عَلَى فَرْضِهَا الْأَوَّلِ فِي السَّفَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، سوائے مغرب کے کہ اس کی تین رکعتیں ہی تھیں، پھر اللہ نے حضر میں ظہر اور عشاء کو مکمل کردیا اور سفر میں ابتدائی فرضیت کو برقرار رکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26338]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 350، م: 685
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 350، م: 685
حدیث نمبر: 26339 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ امْرَأَةُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي رَافِعٍ: " مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟" قَالَ: تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ آذَيْتِيهِ يَا سَلْمَى؟" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا آذَيْتُهُ بِشَيْءٍ , وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا رَافِعٍ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمْ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ , فَقَامَ فَضَرَبَنِي , فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ وَيَقُولُ:" يَا أَبَا رَافِعٍ , إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آزاد کردہ باندی سلمی " جو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابو رافع کی بیوی تھی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ابو رافع نے اسے مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو رافع سے پوچھا کہ اے ابو رافع! تمہارا ان کے ساتھ جھگڑا ہوگیا؟ ابو رافع نے کہا یا رسول اللہ! اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سلمی! تم نے اسے کیا تکلیف پہنچائی ہے؟ سلمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی، البتہ نماز پڑھتے پڑھتے ان کا وضو ٹوٹ گیا تھا تو میں نے ان سے کہہ دیا کہ اے ابو رافع! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دے رکھا ہے کہ اگر کسی کی ہوا خارج ہوجائے تو وہ وضو کرے، بس اتنی بات پر یہ کھڑے ہو کر مجھے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر ہنسنے لگے اور فرمایا اے ابو رافع! اس نے تو تمہیں خیر کی ہی بات بتائی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26339]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بسماعه من هشام
الحكم: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بسماعه من هشام
حدیث نمبر: 26340 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فَضْلُ الصَّلَاةِ بِالسِّوَاكِ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ سِوَاكٍ سَبْعِينَ ضِعْفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک کے ساتھ نماز کی فضیلت مسواک کے بغیر پڑھے جانے والی نماز پر ستر گناہ زیادہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26340]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف، وهذا إسناد منقطع لأن ابن إسحاق لم يسمع هذا الحديث من الزهري
الحكم: حديث ضعيف، وهذا إسناد منقطع لأن ابن إسحاق لم يسمع هذا الحديث من الزهري
حدیث نمبر: 26341 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِتُرْبَانَ , بَلَدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ وَأَمْيَالٌ , وَهُوَ بَلَدٌ لَا مَاءَ بِهِ , وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ , انْسَلَّتْ قِلَادَةٌ لِي مِنْ عُنُقِي , فَوَقَعَتْ , فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِالْتِمَاسِهَا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ , وَلَيْسَ مَعَ الْقَوْمِ مَاءٌ , قَالَتْ: فَلَقِيتُ مِنْ أَبِي مَا اللَّهُ بِهِ عَلِيمٌ مِنَ التَّعْنِيفِ وَالتَّأْفِيفِ , وَقَالَ: فِي كُلِّ سَفَرٍ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْكِ عَنَاءٌ وَبَلَاءٌ؟ قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ الرُّخْصَةَ بِالتَّيَمُّمِ , قَالَتْ: فَتَيَمَّمَ الْقَوْمُ وَصَلَّوْا , قَالَتْ: يَقُولُ أَبِي: حِينَ جَاءَ مِنَ اللَّهِ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ لِلْمُسْلِمِينَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ يَا بُنَيَّةُ , إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ , مَاذَا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ فِي حَبْسِكِ إِيَّاهُمْ مِنَ الْبَرَكَةِ وَالْيُسْرِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے، جب مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک علاقے " تربان " جہاں پانی نہیں ہوتا " تو سحری کے وقت میرے گلے سے ہار ٹوٹ کر گرپڑا، اسے تلاش کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رک گئے، یہاں صبح صادق ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی تھا نہیں، مجھے اپنے والد صاحب کی طرف سے جو طعنے سننے کو ملے وہ اللہ ہی جانتا ہے کہ مسلمان کو ہر سفر میں تمہاری وجہ سے ہی تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کچھ دیر بعد اللہ نے تیمم کی رخصت نازل فرما دی اور لوگوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، یہ رخصت دیکھ کر والد صاحب نے مجھ سے کہا بیٹا! واللہ مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیرے رکنے کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے کتنی آسانی اور برکت نازل فرما دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26341]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26342 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَأَلْتُهَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ هُوَ جُنُبٌ , وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ , ثُمَّ يَنَامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا یا کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26342]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث، خ: 286، م: 305
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث، خ: 286، م: 305
حدیث نمبر: 26343 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا , وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ , وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سیدھی بات کہا کرو، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا کرو اور خوشخبریاں دیا کرو، یاد رکھو! تم سب سے کسی شخص کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جاسکیں گے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26343]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2818
الحكم: إسناده صحيح، م: 2818
حدیث نمبر: 26344 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ , فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟" قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ الْعَامَ , قَالَ:" لَعَلَّكِ نَفِسْتِ" يَعْنِي حِضْتِ , قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي" , فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً" , فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ , وَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ , قَالَتْ: ثُمَّ رَاحُوا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرْتُ , فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَأَفَضْتُ , يَعْنِي طُفْتُ , قَالَتْ فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ , فَقُلْتُ مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ , قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ , فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ , فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ , قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ , أَنِّي أَنْعَسُ , فَتَضْرِبُ وَجْهِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ , حَتَّى جَاءَ بِي التَّنْعِيمَ , فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ جَزَاءً لِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہیلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 305، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 305، م: 1211
حدیث نمبر: 26345 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجِّ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ , وَلَا يَذْكُرُ النَّاسُ إِلَّا الْحَجَّ , حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرِفَ , وَقَدْ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْهَدْيَ , وَأَشْرَافٌ مِنَ النَّاسِ , أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ , وَحِضْتُ ذَلِكَ الْيَوْمَ , فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ , وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ مَعَكُمْ عَامِي هَذَا فِي هَذَا السَّفَرِ , قَالَ:" لَا تَفْعَلِي , لَا تَقُولِي ذَلِكَ , فَإِنَّكِ تَقْضِينَ كُلَّ مَا يَقْضِي الْحَاجُّ إِلَّا أَنَّكِ لَا تَطُوفِينَ بِالْبَيْتِ"، قَالَتْ فَمَضَيْتُ عَلَى حَجَّتِي وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ , فَحَلَّ كُلُّ مَنْ كَانَ لَا هَدْيَ مَعَهُ , وَحَلَّ نِسَاؤُهُ بِعُمْرَةٍ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ كَثِيرٍ , فَطُرِحَ فِي بَيْتِي , فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ , حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ , مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي فَاتَتْنِي وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي الْحَجِّ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَحَلَلْنَ بِعُمْرَةٍ , وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يَحِلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ , وَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى حُرْمِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26345]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن إسحاق صرح بالتحديث
الحكم: حديث صحيح، ابن إسحاق صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 26346 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، ابْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ قَالُوا: " خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بِهِ ذَاتُ الْجَنْبِ , إِنَّهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَلَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيُسَلِّطَهُ عَلَيَّ" : قَالَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا أَسْمَعُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَقْبِضْ نَبِيًّا حَتَّى يُخَيِّرَهُ" قَالَتْ: فَلَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ آخِرُ كَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْهُ وَهُوَ يَقُولُ:" بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ" قَالَتْ: قُلْتُ: إِذًا وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا , وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ الَّذِي كَانَ يَقُولُ لَنَا:" إِنَّ نَبِيًّا لَا يُقْبَضُ حَتَّى يُخَيَّرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا لوگ بھی خوفزدہ ہوگئے اور ہمارے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو " ذات الجنب " کی شکایت تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر اس بیماری کو مسلط کیا ہے، حالانکہ اللہ اسے مجھ پر کبھی بھی مسلط نہیں کرے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے جس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وقت وصال جب قریب آیا تو میں نے ان کے منہ سے آخری کلمہ جو سنا وہ یہ تھا " رفیق اعلیٰ کے ساتھ جنت میں " مجھے وہ بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی تھی اور میں سمجھ گئی کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی صورت ہمیں ترجیح نہ دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26346]
حکم دارالسلام
هذا حديث له اسنادان: الاسناد الاول حسن لتصريح تحديث ابن اسحاق، والاسناد الثاني ضعيف لتدليس ابن اسحاق وعدم يصريح التحديث
الحكم: هذا حديث له اسنادان: الاسناد الاول حسن لتصريح تحديث ابن اسحاق، والاسناد الثاني ضعيف لتدليس ابن اسحاق وعدم يصريح التحديث
حدیث نمبر: 26347 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عُتْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حِينَ دَخَلَ مِنَ الْمَسْجِدِ , فَاضْطَجَعَ فِي حِجْرِي , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ , وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ أَخْضَرُ , قَالَتْ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ نَظَرًا عَرَفْتُ أَنَّهُ يُرِيدُهُ , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تُحِبُّ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا السِّوَاكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ لَهُ حَتَّى أَلَنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ , قَالَتْ: فَاسْتَنَّ بِهِ كَأَشَدِّ مَا رَأَيْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ قَبْلَهُ , ثُمَّ وَضَعَهُ , وَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثْقُلُ فِي حِجْرِي , قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَإِذَا بَصَرُهُ قَدْ شَخَصَ , وَهُوَ يَقُولُ: " بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ" , فَقُلْتُ: خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ , قَالَتْ: وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وصال کے دن مسجد سے واپس آکر میری گود میں لیٹ گئے، اسی دوران حضرت صدیق اکبر کے گھر کا کوئی فرد ہاتھ میں سبز مسواک لئے ہوئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف اس طرح دیکھا کہ میں سمجھ گئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسواک آپ کو دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے اسے لے کر چبا کر نرم کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح عمدگی سے مسواک کی جس طرح میں انہیں پہلے کرتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رکھ دیا، میں نے محسوس کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم بھاری ہو رہا ہے، میں نے ان کے چہرے پر نظر ڈالی تو ان کی نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے " جنت میں رفیق اعلیٰ کے ساتھ " میں نے کہا آپ کو اختیار دیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آپ نے اسے اختیار کرلیا اور اسی دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26347]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق لأنه صرح بالتحديث
الحكم: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق لأنه صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 26348 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ عَبَّادٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ , قَالَ:: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي , لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا , فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي , ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ , وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ , وَأَضْرِبُ وَجْهِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26348]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
الحكم: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26349 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمَارَةَ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنِ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمَارَةَ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: " مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ" , قَالَ مَحَمَّدٌ وَقَدْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26349]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين
الحكم: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26350 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ , قَالَتْ: فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ , وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ , وَيَقُولُ: " قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" , يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو باربار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26350]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، خ: 435 ، م: 531
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، خ: 435 ، م: 531
حدیث نمبر: 26351 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، لِمَعْمَرٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , قَالَ: قُلْتُ لِمَعْمَرٍ " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رباح کہتے ہیں کہ میں نے معمر سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال بیٹھنے کی حالت میں ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26351]
حکم دارالسلام
خبر صحيح
الحكم: خبر صحيح
حدیث نمبر: 26352 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: فَحَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: " لَا يُتْرَكُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ جزیرہ عرب میں دو دینوں کو نہ رہنے دیا جائے (صرف ایک دین ہو اور وہ اسلام ہو)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26352]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 26353 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ , قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ , فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا , قَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ: " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" , يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ مَا صَنَعُوا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و انصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26353]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 435، م: 531
الحكم: إسناده صحيح، خ: 435، م: 531
حدیث نمبر: 26354 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ , مِنْ نَخْلٍ قَالَتْ: فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صِدْعَيْنِ , فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ , وَقَامَتْ طَائِفَةٌ تُجَاهَ الْعَدُوِّ , قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَبَّرَتْ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ , ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا , ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا , ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ , فَرَفَعُوا مَعَهُ , ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ , ثُمَّ قَامُوا , فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ , قَالَتْ: فَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى , فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا , ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ , فَسَجَدُوا مَعَهُ , ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ , وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ , ثُمَّ قَامَتْ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا , فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ , فَسَجَدُوا جَمِيعًا , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا مَعَهُ , كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ , ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَلَّمُوا , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ ذات کے موقع پر لوگوں کو نماز خوف پڑھائی اور وہ اس طرح کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، ایک گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہی اور جو لوگ پیچھے کھڑے تھے انہوں نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ دیر رکے رہے اور مقتدیوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کرلیا اور کھڑے ہو کر ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پہلے گروہ کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور اس گروہ نے آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بنالی، تکبیر کہی اور خود ہی رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسرا سجدہ کہا تو انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا۔ اس کے بعد دونوں گروہ اکٹھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ساتھ لے کر رکوع کیا، پھر سب نے اکٹھا سجدہ کیا اور اکٹھے سر اٹھایا اور ان میں سے ہر رکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیزی کے ساتھ ادا کیا اور حتی الامکان اسے مختصر کرنے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے، اس طرح تمام لوگ مکمل نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26354]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، ابن إسحاق مدلس ولكن صرح بالتحديث
الحكم: إسناده حسن، ابن إسحاق مدلس ولكن صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 26355 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ , صَدَعْتُ فَرْقَةً عَنْ يَافُوخِه , وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ صُدْغَيْه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر تیل لگاتی تھی تو مانگ سر کے اوپر سے نکالتی تھی اور پیشانی کو چھوڑ دیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26355]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 26356 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَا يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ , فَهِيَ خِدَاجٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھے تو وہ ناقص ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26356]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26357 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزَّبِيرِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزَّبِيرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزَّبِيرِ , قَالَ: حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزَّبِيرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ" , قَالَ: فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ , قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ , وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ , بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔ ابو امامہ " جو اس مجلس میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے " کہنے لگے اے ابو عبداللہ! شاید انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں ہوتی تھی، عروہ نے کہا کہ میں آپ کو یقینی بات بتارہا ہوں اور آپ شک کی بناء پر اسے رد کر رہے ہیں، انہوں نے یہی فرمایا تھا کہ میں ان کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26357]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 383، م: 512
الحكم: حديث صحيح، خ: 383، م: 512