يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عُتْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حِينَ دَخَلَ مِنَ الْمَسْجِدِ , فَاضْطَجَعَ فِي حِجْرِي , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ , وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ أَخْضَرُ , قَالَتْ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ نَظَرًا عَرَفْتُ أَنَّهُ يُرِيدُهُ , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تُحِبُّ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا السِّوَاكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ لَهُ حَتَّى أَلَنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ , قَالَتْ: فَاسْتَنَّ بِهِ كَأَشَدِّ مَا رَأَيْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ قَبْلَهُ , ثُمَّ وَضَعَهُ , وَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثْقُلُ فِي حِجْرِي , قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَإِذَا بَصَرُهُ قَدْ شَخَصَ , وَهُوَ يَقُولُ: " بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ" , فَقُلْتُ: خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ , قَالَتْ: وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وصال کے دن مسجد سے واپس آکر میری گود میں لیٹ گئے، اسی دوران حضرت صدیق اکبر کے گھر کا کوئی فرد ہاتھ میں سبز مسواک لئے ہوئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف اس طرح دیکھا کہ میں سمجھ گئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسواک آپ کو دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے اسے لے کر چبا کر نرم کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح عمدگی سے مسواک کی جس طرح میں انہیں پہلے کرتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رکھ دیا، میں نے محسوس کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم بھاری ہو رہا ہے، میں نے ان کے چہرے پر نظر ڈالی تو ان کی نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے " جنت میں رفیق اعلیٰ کے ساتھ " میں نے کہا آپ کو اختیار دیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آپ نے اسے اختیار کرلیا اور اسی دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26347]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق لأنه صرح بالتحديث
الحكم: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق لأنه صرح بالتحديث