بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 1 از 31
حدیث نمبر: 25798 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيِّ بْنِ صَالِح ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِر ، إِبْرَاهِيمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِح , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِر , ٍعَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سُرِقَتْ مِخْنَقَتِي , فَدَعَوْتُ عَلَى صَاحِبِهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تُسَبِّخِي عَلَيْهِ دَعِيهِ بِذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بد دعائیں دیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25798]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف إبراهيم النخعي لم يثبت له سماع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف إبراهيم النخعي لم يثبت له سماع من عائشة
حدیث نمبر: 25799 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذی الحجہ کے دن طواف زیارت کو رات تک کے لئے مؤخر کردیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25799]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتدليس أبى الزبير
الحكم: إسناده ضعيف لتدليس أبى الزبير
حدیث نمبر: 25800 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25800]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 25801 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْر" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25801]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5442، م: 2975
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5442، م: 2975
حدیث نمبر: 25802 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِر ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِر ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَر , فَقَال:" يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25802]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25803 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَلِي يَعْنِي ابْنَ ْمُبَارَكٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَقَالَ: حَدَّثَنَا عَلِي يَعْنِي ابْنَ ْمُبَارَكٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْر؟ قَال: " إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ أَوْ قَالَ: عُرُوقٌٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25803]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 25804 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَلِيٌ ، يَحْيَى ، أَبُو قِلَابَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَقَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌ , عَنْ يَحْيَى , قَال: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ ، خَازِنَ الْبَيْتِ , أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ , فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِه , فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَة: لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْه , فَقَال: " إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ نَكْبَةٌ شَوْكَةٌ وَلَا وَجَعٌ إِلَّا رَفَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً" أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے باربار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25804]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25805 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْب ، الزُّهْرِي ، عُرْوَة ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْب , عَنْ الزُّهْرِي ، عَنْ عُرْوَة , عَنْ عَائِشَة , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُسَمُّونَ أَوْ تَدْعُونَ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْر إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً , يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ سَجْدَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَة , وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْح , رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْن , ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَيَأْتِيهِ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجُ مَعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو وہ مختصر پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25805]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25806 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيّ ، عُرْوَة ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيّ ، عَنْ عُرْوَة , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَت: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں پڑھتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
حدیث نمبر: 25807 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَة , فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ , فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم , فَقَال: " مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَحَدٍ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ" , قَالَ: وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاس..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 566، م: 638
الحكم: إسناده صحيح، خ: 566، م: 638
حدیث نمبر: 25808 مسند احمد
حَجَّاج ، لَيْث ، عُقَيْل ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَة ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاج , حَدَّثَنَا لَيْث , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْل , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَة , عَنْ عَائِشَةَ أخبرته" أنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ ليلة فذكر مَعْنَاه".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 566، م: 638
الحكم: إسناده صحيح، خ: 566، م: 638
حدیث نمبر: 25809 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَان ، حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَد ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَال: َأَخْبَرَنَا سُفْيَان , ُعَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَد , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو ظہر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25809]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل حكيم بن جبير
الحكم: إسناده ضعيف لأجل حكيم بن جبير
حدیث نمبر: 25810 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيم ، سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِين ، نُبِّئْتُ ، دِقْرَةَ أُمِّ عَبْد اللهِ بْنِ أُذَيْنَة ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيم , قَال: َحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَة , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِين , قَال: نُبِّئْتُ عَنْ دِقْرَةَ أُمِّ عَبْد اللهِ بْنِ أُذَيْنَة , قَالَتْ: كُنَّا نَطُوفُ مَعَ عَائِشَةَ بِالْبَيْتِ فَأَتَاهَا بَعْضُ أَهْلِهَا، فَقَالَ: إِنَّكِ قَدْ عَرَقْتِ , فَغَيِّرِي ثِيَابَكِ , فَوَضَعَتْ ثَوْبًا كَانَ عَلَيْهَا فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا عَلَيَّ مُصَلَّبًا , فَقَالَت:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَآهُ فِي ثَوْبٍ قَضَبَهُ" , قَالَتْ: فَلَمْ تَلْبَسْه .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
دقرہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ طواف کر رہے تھے کہ ان کے پاس ان کے اہل خانہ میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو پسینہ آرہا ہے، کپڑے بدل لیجئے، چنانچہ انہوں نے اوپر کے کپڑے اتار دیئے، میں نے ان کے سامنے اپنی چادر پیش کی چس پر صیلب کا نشان بنا ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی کپڑے پر صلیب کا نشان دیکھتے تو اسے ختم کردیتے تھے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ چادر نہیں اوڑھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25810]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل دقرة
الحكم: إسناده حسن من أجل دقرة
حدیث نمبر: 25811 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِد ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِث ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِد , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِث ، قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ بَلَغَ مَرْوَانُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُب , فَلَا يَصُومَنَّ يَوْمَئِذ , فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَاكَ؟ فَانْطَلَقَتْ مَعَه , فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَام , ثُمَّ يَصُومُ" فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ , فَحَدَّثَهُ , فَقَال: َالْقَ أَبَا هُرَيْرَةَ , فَحَدِّثْه , َقَالَ: إِنَّهُ لَجَارِي , وَإِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِمَا يَكْرَهُ , فَقَال: َأَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَلْقَيَنَّهُ , قَال: َفَلَقِيَهُ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَكَ بِمَا تَكْرَهُ , وَلَكِنَّ الْأَمِيرَ عَزَمَ عَلَيَّ , قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ , فَقَال: َحَدَّثَنِيهِ الْفَضْلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، مروان کو پتہ چلا تو ایک مرتبہ اس نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں، میں اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتا کہ ان کے سامنے کوئی ناگوار بات رکھوں، اس نے مجھے قسم دے دی، چنانچہ میں نے اس سے ملاقات کی اور انہیں بتادیا کہ میں تو آپ کے سامنے اسے بیان نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن گورنر صاحب نے مجھے قسم دے دی تھی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات مجھ سے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25811]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25812 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25812]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سليمان بن موسى لم يدرك عائشة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سليمان بن موسى لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25813 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ الْحَسَنِ , قَال: سُئِلَتْ عَائِشَةُ ، عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم , فَقَالَت: " كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق تو قرآن تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25813]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع
حدیث نمبر: 25814 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَة ، لِعَائِشَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَة ، قَال: قُلْتُ لِعَائِشَة : َأَيْ أُمَّهْ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَت: " نَعَمْ، لَمْ يَكُنْ يَنَامُ حَتَّى يَغْسِلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاة" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو شرمگاہ کو دھو کر نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25814]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن عمرو
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن عمرو
حدیث نمبر: 25815 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوق ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوق ، قَال: أَتَيْنَا عَائِشَةَ لِنَسْأَلَهَا عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِم , فَاسْتَحَيْنَا فَقُمْنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهَا فَمَشَيْنَا لَا أَدْرِي كَمْ , ثُمَّ قُلْنَا: جِئْنَا لِنَسْأَلَهَا عَنْ حَاجَةٍ , ثُمَّ نَرْجِعُ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهَا , فَرَجَعْنَا , فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا جِئْنَا لِنَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ , فَاسْتَحَيْنَا فَقُمْنَا , فَقَالَتْ: مَا هُوَ؟ سَلَا عَمَّا بَدَا لَكُمَا , قُلْنَا: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَت: " قَدْ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے " مباشرتِ صائم " کا حکم پوچھنے لگے، لیکن ان سے پوچھتے ہوئے شرم آئی اس لئے ان سے پوچھے بغیر ہی کھڑے ہوگئے، تھوڑی دور ہی چل کر گئے تھے " جس کی مسافت مجھے یاد نہیں " کہ ہمارے دل میں خیال آیا کہ ہم ان سے ایک ضروری بات پوچھنے کے لئے گئے تھے اور بغیر پوچھے واپس آگئے، یہ سوچ کر ہم واپس آگئے اور عرض کیا ام المومنین! ہم آپ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے آئے تھے لیکن شرم کی وجہ سے پوچھے بغیر ہی چلے گئے تھے، انہوں نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو، ہم نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 25816 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، رَجُلٌ ، لِعَائِشَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ , قَال: َقَالَ رَجُلٌ : قُلْتُ لِعَائِشَة : َمَا كَانَ يَقْضِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ , قَال: َ" فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ حَزَرَتْهُ صَاعًا بِصَاعِكُمْ هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ غسل جنابت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتنا پانی کفایت کرجاتا تھا؟ اس پر انہوں نے ایک برتن منگوایا، میں نے اس کا اندازہ کیا تو وہ موجودہ صاع کے برابر ایک صاع تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25816]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25817 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَال: َسَمِعْتُ الْقَاسِمَ , يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَة ُ" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحُرْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25817]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1189
الحكم: حديث صحيح، م: 1189